حکومتی نیت میں فتور، عوامی ایکشن کمیٹی کا حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک۔

گلگت ( نامہ نگار) عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران گلگت بلتستان کا ٹیکسز کی نفاذ کے خلاف حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات رات بھر جاری رہنے کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق حکومتی نمائندوں کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی اہم نکات پر لچک کا مظاہرہ کیا اور معاملہ نتیجہ خیز مرحلے کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے نمائندوں نے حکومت سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے اس تحریک میں شامل 50اہم رہنماوں کے خلاف خاموشی سے ایف آئی آر درج کی ہے جسے ختم کریں اور عوام کو یقین دلائیں کہ ٹیکس ایڈاپٹشن 2012کی مکمل طور پر معطلی کا نوٹفکیشن کے ساتھ ساتھ آئندہ کسی بھی مرکزی قائد یا کارکن کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے میں حکومت کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملے بلکہ وزیر قانونی بار بار میٹینگ سے اُٹھ کر کسی خفیہ شخصیات سے ہدایات لینے کیلئے جاتے رہے یوں حکومت کی جانب اس سلسلے میں یقین دہانی نہ کرانے پر عوامی کمیٹی کے اراکین جو پہلے نوٹفیکشن جاری ہونے تک لانگ مارچ ختم کرکے صرف علامتی دھرنوں اور احتجاج کیلئے تیار تھے لیکن جھوٹے مقدمات نہ بنانے کے حوالے سے حکومتی اراکین تسلی بخش جواب نہیں دے پائے لہذا احتجاج اور لانگ مارچ کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،۔ ممبر کور کمیٹی اور دیگر عہدے داران کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہمیں تعجب اس بات پر ہوئی جب حکومت خود براہ راست عوام سے مذاکرات کر رہے ہیں تو وہ کونسی سی خفیہ وقت ہے جن سے مشورہ کرنے کیلئے وزیر قانون بار بار ہال سے نیچے والی منزل میں جارہا تھا۔ ممبر کور کمیٹی راجہ میر نواز میر نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ اب تمام مذاکرات عوام کی عدالت میں ہوگی کیونکہ پورے گلگت بلتستان نے عوامی جم غفیر کے دستوں نے آج گلگت کے اتحاد چوک پر جمع ہوکر تاریخی یکجہتی کا عملی مظاہر ہ کرنا ہے۔ لہذا مذاکرات کے اگلے مرحلے میں بھی ہمارا یہی مطالبہ رہے گا کہ کسی بھی کارکن یا لیڈر کے خلاف درج کئے گئے ایف آئی آر کو ختم کریں اور اور آئندہ کیلئے یقین دہانی کرائیں ساتھ ہی ٹیکس کو مکمل طور پر کعلدم قرار دیکر باقاعدہ نوٹفیکشن جاری کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc