عوامی تحریک اورمفادپرست منطق ۔ تحریر: میثم اینگوتی

ٹیکس ایشو اورعوامی بیداری سے خائف چند مصلحت پرست اور مفادپرست لوگ بزعم خود سقراط عصر بنے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی ہانکتے ہوئے قوم کو تقسیم اورگمراہ کرنے کی سعی کررہےہیں۔ ان کے فرمودات ذیل میں ملاحظہ فرمائے۔
ٹیکس صرف امیروں پر ہے غریبوں پر نہیں۔
ٹیکس پی پی کے دور میں نافذہوا نون لیگ نے نہیں لگایا۔
ٹیکس ایشو پر احتجاج کرنا غلط ہے کیونکہ جی بی ایک حساس علاقہ ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران استعمال ہورہے ہیں اور یہ اس حساس خطے میں انتشارپھیلاکر دشمن کوخوش کررہے ہیں۔
ٹیکس ایشو کو لے کر چند سیاسی یتیم اپنی سیاست چمکارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔
ان عقل کے اندھوں کو اتنی موٹی عقل میں اتنی چھوٹی سی بات کیوں نہیں سمجھ آتی کہ ٹیکس ایشومیں بات یہ نہیں کہ کس پر لگ رہاہے ؟ کس پرنہیں لگ رہا ؟ اور کس نے لگایا ؟ بات سیدھی سادی یہ ہے کہ ایک متنازعہ علاقے میں ٹیکس کانفاذ ہی غیرقانونی اور غیرانسانی فعل ہے اور یہ مسئلہ سوفیصد انسانی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یہ غلط اور غیرقانونی عمل ہے کہ ایک قوم کو اس کے بنیادی اور آئینی حقوق بھی نہ دیں اور اس پر ٹیکس بھی عائد کریں بہت شرمناک اور ظالمانہ عمل ہے چاہے پی پی کرے نون لیگ کریں یاپی ٹی آئی۔ جہاں تک علاقے کی حساسیت کوجوماتم ہورہاہے عرض صرف اتناہے کہ اس حساسیت کاخیال رکھنا ریاست اس کے اداروں اورحکمران جماعت کی زمہ داری ہے۔ وہ عوام کوریلیف دے اور ان کاحق دےکرخوش رکھے اگر ایسا نہیں ہوگاتو عوام تواپنے حق کے لئے نکلیں گے اوران کے سامنے پھرکوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی۔ حساسیت کاخیال کیسے رکھاجاتاہے آپ کرگل لداخ کے لوگوں سے پوچھ کر بھی لگاسکتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران پر غداری کاالزام لگانے والوں اور انجمن محبان وطن کے سیاپافروشوں سے اتناہی عرض کروں گا کہ تم اپنے مفادات کے حصول میں جتے ہوئے ہو اور تمھاری تمام تر تابعداری مفادت کے حصول تک ہے جبکہ یہ قوم پچھلے ستر سالوں سے اپنی مٹی کے وہ قرض بھی چکارہی ہے جو ان پرواجب بھی نہیں تھے۔ جہاں تک دیگر سیاسی جماعتوں پر الزام لگاکر بری الزمہ ہونے کی کوشش ہے نہایت سطحی اور احمقانہ ہے ۔ آپ نے جو کام کئے ہیں ان کاپھل آپ کوہی ملے گا پی پی اور پی ٹی ائی کو نہیں۔ لیکن آپ نے عوام کو سڑکوں پر ذلیل کرناہے تویاد رکھو اس کاحساب بھی آپ کوہی دیناہوگا اور وہی حشرہوگا جو پی پی کاہواتھا۔ یہ بات بارہاکہہ چکاہوں کہ اصل مسئلہ صوبائی حکومتوں سے نہیں کیونکہ وہ تو ہوتی ہے۔ کٹھ پتلی اوربےاختیار ۔ اصل مسئلہ وفاق سے ہے اور ان کاکام پاوں پڑنا اور وہ یہی کام کررہےہیں۔ قاری صاحب لاہور میں یہی منت سماجت کررہاہے پر برجیس طاہر گلگت بلتستان کو ڈوگرہ راج کی نوآبادی اور خود کوگلاب سنگھ سمجھتاہے۔ وفاق کے ان ناعاقبت اندیشوں سے اتنی سی گذارش ہے کہ پانی کےسرسے گذرنے سے پہلے ہوش کے ناخن لیں۔ سقوطہ ڈھاکہ سے ہی کچھ سبق لے ۔ ضد اوراناکی سیاست کوچھوڑدیں۔ لہوجمانے والی سردی میں اپنے حقوق کے لئے دربدرمخلوق خدا کی دادرسی کریں ورنہ ایک دن ائے گا کہ تمھاراتخت وتاج ہی تمھاری نابودی کاسامان ہوگا اور اس وقت پشیمانی کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc