حکومت عوام کے خلاف ڈٹ گئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا دھمکیوں سے بھرپور سخت پیغام۔

گلگت ( نامہ نگار) گلگت بلتستان میں جاری غیر قانونی ٹیکسزکی نفاذ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ سول نافرانی کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن اس اہم معاملے پر حکومت کی جانب سے سنجیدگی کے ساتھ سے غور کرنے اور مسلے کو حل کرنے کیلئے کوئی جمہوری راستہ نکالنے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے عوام کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں کی جارہی ہے۔ اسلام آباد سے جاری ویڈیو پیغام میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی کیلئے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے للکار للکار کر دھمکیاں دی ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت میں جمہوریت نامی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ انہوں نے دیگر اراکین اسمبلی کے ساتھ ویڈیو پیغام میں اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں وڈہولڈنگ ٹیکس ختم نہیں ہوئی جبکہ حکومتی ترجمان اور مشیران مسلسل ٹیکس ختم ہونے کی خبروں پر مبنی خبریں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں جاری عوامی تحریک کو بیرونی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے مقامی اور وفاقی حکومت کے خلاف بولنے والوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے آ ہنی ہاتھ سے نمٹنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے عوام جو ق درجوق گلگت کی طرف رواں دوں ہیں جو گلگت میں اتحاد چوک پر جمع ہوکر اپنے حقوق کیلئے حکومت کے خلاف طاقت آزمائی کا مظاہرہ کریں گے۔ ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے اپنے پیغام میں وٹس ایپ کے مشہور معروف گروپ جی بی تھنکرز فورم اور جی بی کشمیر تھنکر ر فورم سے خوف کا اظہار کرتے ہوئے اس گروپ پر بھی الزامات لگائے دئے۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے جی بی تھنکرز فورم کے ایڈمنز سے اس سے دریافت کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ اس گروپ میں کسی خاص پارٹی یا مسلک اور مذہب کی پرچار کرنے کی قطعی طور پر اجازت نہیں ہے اور نہ ہی مملکت پاکستان کی سالمیت پر کسی کو ایک لفظ لکھنے یا بولنے کی اجازت ہے بلکہ ہم نے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منظم قواعد اور ضوابط کیساتھ گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل کی حل کیلئے حکومت کی رہنمائی کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت کا تعلق چونکہ ضیاالحق کے سیاسی وارثین سے ہے لہذا اُنکے اندر جمہوریت نامی چیز موجود ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں متنازعہ حیثیت پر حقوق کا مطالبہ کرنے والے بھی غداری اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقدمات بھگت رہے ہیں۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ جی بی تھنکرز فورم میں مکالمے کیلئے ہم نے 16قوانین مرتب کئے ہوئے ہیں جس کے اندر رہ کرکسی بھی ایشوز پر مکالمہ کرنا فورم کے اصول کا حصہ ہے اور اس فورم میں گلگت بلتستان کے تمام سیاسی اور مذہبی پاڑٹیوں کے رہنماوں سمیت زندگی کے دیگر شعبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے دانشور اور علمائے کرام سمیت حکومتی اراکین موجود ہیں لیکن جعفراللہ خان چونکہ سیاسی طور پر ایک نابالغ شخص ہے لہذا گلگت بلتستان میں اُنکی باتوں کو لوگ مذاق کے طور پر استعمال کرتے ہیں لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc