آپ مانے یا نہ مانے،کہانی سچی ہے

سدپارا ڈیم کی عمر نہایت مختصر ہو گی ، ہوٹل کی طرف کئی کنال کے برابر جگہ حالیہ بارش کے سبب آنے والے ملبے تلے ضائع ہو گئی ہے.ڈیم کے چاروں اطراف اسی طرح کی بارشیں ہونگی تو ڈیم کے بھر جانے میں دیر نہیں لگے گی جن لوگوں نے اسے تعمیر کیا انہی لوگوں کے سامنے یہ ملبے کا ڈھیر بن جائے گا. وہ دن دور نہیں یہ ڈیم جس ملک نے پیسہ دیکر بنوایا ہے وہی ملک اسے غرق کر دے گا.ورنہ آپ خود ذرا سوچئے کہ یہ بادل کا ٹکڑا کسی اور جگہ بھی اپنا غصہ نکال سکتا تھا اسے صرف سدپارا ڈیم کیوں نظر ایا.بادل کو باقاعدہ پروگرام کے تحت ڈیم دکھایا گیا. ارے بادلو ادھر برسو اور پہاڑ کی چوٹی سے خوب ملبہ لے جاکر ڈیم میں پھینک دو یوں کسی پر الزام ائے بغیر ڈیم کا کام تمام ہو گا. اپ کو معلوم ہو گا اس شام کو سکردو اور اس کے گرد و نواح میں کہیں بارش نہیں ہوئی تمام پانی والے بادلوں کو ایک جگہ کٹھا کیا گیا اور لاکھوں کیوسک پانی کو ایک نالہ میں گرایا .بادل کا ایک کنارا رگیایول اور دوسرا حسین اباد بروق تک پھیلا ہوا تھا یہ کنارے ڈیم کے دائین بائین نزدیک واقع ہین . حالنکہ اس سال یعنی 2017 کے مارچ اپریل میں تاریخ کی ریکارڈ برف باری ہوئی تھی اور لوگوں کا خیال تھا اس سال ڈیم ضرور بھر جائے گا مگر برف پگھل گئی ڈیم کی سطح میں فرق نہیں آیا اب جو تین منٹ کی بارش نے ڈیم کی سطح خطرے کے نشاں تک پہنچا دی اور اور فلو سے پانی چھوڑنا پڑا .یہ جو سونامی خود بخود کہاں سے آگیا اسے بھی باقاعدہ لایا گیا.سونامی کو بھی کہا گیا تھا جاو ان کو تباہ کرنا ہے جو ترقی کی راہ میں ہم سے زیادہ نمبر لینا چاہتے ہیں ہماری منشا کے خلاف کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے اور ہاں یہ زلزلہ بھی اسی خان بہادر کے حکم سے آتا ہے اس کے ہاتھ اب پوری طاقت آگئی ہے اور خدا نے قرآن میں خود فرمایا ہےکہ تم غیرت مند اور بہادر قوم نہ بن گئے تو ظالم مسلط کیا جائے گا. شایداپ کے علم میں ہو ذمین اور سورج کے درمیان بڑے بڑے بولڈرز معلق ہیں اور کسی بھی وقت کشش ثقل انہیں کھینچ سکتی ہے اس طرح پتھروں کی بارش بھی ہو سکتی ہے.ذمین کی کشش اگر کھینچنے میں ناکام ہو جائے تو یہی انسان ذمین کی کشش میں اضافہ کر سکے گااور وہ حادثہ پیش ائے گا جس کا کبھی گمان تک نہیں ہوا. میں ژھری روندو کے ہوٹل کے لان میں چائے کی چسکی لیتے ہوئے حیرت کی دنیا میں ڈوبتا جا رہا تھا اور وہ مسلسل بولتا جا رہا تھا میں نے بالآخر اس کی بات کاٹتے ہوئے نام اور کام پوچھا تو کہنے لگا میرا نام تو نصرت ہے روندو سے میرا تعلق ہے اور کام پتھروں کا کرتا ہوں بس مجھے دنیا کی فکر ہے اور یہ باتیں کہیں نہ کہیں سے میرے علم میں آجاتی ہے. مگر ان باتوں کو ہضم کرنے والے کم ہیں ابھی آپ کو دیکھا تو جی چاہا کہ آپ کے ساتھ شیئر کروں آپ کو میں نے ریڈیو اور سٹیج پر بارہا سنا ہے اس لئے آپ سے بات کرتے ہوئے اچھالگا. یہ باتیں کہاں تک سچ ہیں یہ خدا بہتر جانتا ہے. میری اس سے ملاقات اتنی دیر کی تھی جتنی دیر میں چائے کی پیالی ختم ہوتی ہے. حلیہ سے مزدور نما نصرت مکمل روانی میں حیران کن باتیں کرنے لگا تھا جبکہ شام کا سایہ پھیل چکا تھا نہ چاہتے ہوئے نصرت کو خدا حافظ کہا اور ہم سکردو کی طرف چل پڑے۔

تحریر: احسان علی دانش

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc