جی بی عوام کا احتجاج …لگتا ہے اب لاوا پھٹنے والا ہے۔ تحریر: محمد حسن جمالی

انسان نہ اپنی مرضی سے دنیا میں آیا ہے اور نہ ہی اپنے اختیار سے دنیا سے جائے گا، لیکن دنیوی زندگی میں اللہ تعالی نے انسان کو صاحب ارادہ و اختیار بنا دیا ہے۔ انسان کی اپنی مرضی ہے چاہے تو ہدایت یافتہ ہوکر جنتی بنے یا ضلالت اور گمراہی میں زندگی کے لمحات گزارتے ہوئے اپنا ٹهکانہ جہنم بنالے۔ اللہ تعالی نے انسانوں کو واضح طور پر ہدایت اور ذلالت کے راستے دکهائے ہیں۔ لیکن ان راستوں پر چلنا یا نہ چلنا انسان کے اختیار میں ہے۔ البتہ مسلمانوں میں سے بعض پڑهے لکهے افراد کو کچھ کلامی شبهات کے جوابات نہ ملنے کی وجہ سے اس بات کا قائل ہونا پڑا ہے کہ انسان دنیا میں خود مختار نہیں بلکہ مجبور ہے اور اس نظریہ جبر کے دائرے کو اس قدر وسعت بخشی کہ وہ کہنے لگے دنیا میں انسان جو بهی کام انجام دیتا ہے حقیقت میں اسے اللہ انجام دیتا ہے۔ یہاں تک کہ نعوذ باللہ انسان جو بهی گناہ کرتا ہے اسے حقیقت میں خدا کرتا ہے نہ کہ انسان۔
ہمارے ملک میں برسر اقتدار آج کے حکمران عوام پر اگر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالنے میں لذت محسوس کررہے ہیں تو اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، جن میں سے ایک اہم وجہ اسی نظریہ جبر پر ان کا مستحکم اعتقاد ہونا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ بنا ہوا ہے کہ انسان اپنی حرکات وسکنات اور افعال کی انجام دہی میں مجبور ہے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں کهلی چهوٹ ملی ہوئی ہے‛ ہم اپنے من پسند کام کرسکتے ہیں‛ ہم قومی خزانہ لوٹ سکتے ہیں‛ کرپشن‛ اقرباپروری اور لوٹ گهسوٹ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ظلم پر مبنی نظام کا اجرا کرنے اور اقلیتی گروہ کے حقوق کو ہڑپ کرنے میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔داعشی گروہ نے شام اور عراق میں اتنے بے گناہ انسانوں کا خون ناحق بہایا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ تهی کہ اس گروہ کو اسی غلط فکر کی بنیاد پر تربیت دی گئی تهی۔ انہیں یہ باور کرایا گیا تها کہ انسان دنیا میں مجبور محض ہے اور اپنے افعال میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں۔ لہذا اگر بے گناہ انسانوں کا سرقلم کیا جائے، بچوں اور عورتوں کو ذبح کیا جائے یا انہیں زندہ نذر آتش کیا جائے تو کوئی حرج نہیں‛ ایسے قبیح کاموں کے انجام دینے پر نہ تمہیں دنیا میں کوئی بازپرس ہوگی اور نہ ہی آخرت میں تمہیں کوئی عقاب یا عذاب ہو گا۔ کیونکہ تم ان کاموں کو انجام دینے میں مجبور تهے نہ آزاد۔
انسانی ضمیر اور عقل کے برخلاف اس نظریہ جبر نے ہمارے حکمرانوں کو سرکش بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ آج ہم دیکهتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان میں حکمران خود کو پادشاہ اور عوام کو رعایا سمجهتے ہوئے ان کے ساتھ بدترین سلوک روا رکهے ہیں۔ حد یہ ہے کہ وہ عوام کو انسان سمجهنے سے بهی انکاری ہیں۔ تبهی تو وہ اقتدار کو اپنی عیاشی کا ذریعہ تصور کرتے ہیں‛ قومی خزانے کے پیسے سے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے اور ذاتی سرمائے بنانے کو جائز سمجهتے ہیں‛ غریبوں کو مزید غربت کی طرف دھکیلنا پسند کرتے ہیں‛ ملک کو کنگال کرکے مفادات کے حصول کی آرزو رکهتے ہیں‛ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں‛ قومی مسائل اور مشکلات کو درک کرکے ان کے لیے حل نکالنا ضیاع وقت کے مترادف سمجھتے ہیں‛ ملک کو بیرونی قرضوں کے سمندر میں ڈبو کر قرضوں کی مختصر رقم کو کچھ نمائشی کاموں پر خرچ کرکے فخرو مباہات کرتے ہیں‛ ابهی تک جتنے بهی حکمران آئے ہیں ان میں نمائشی سرگرمیاں دکهانا ان کی پالیسی اور منصوبہ بندی کا اہم حصہ رہاہے۔ یہ دیکهنے کی کسی نے بهی زحمت نہیں اٹھائی کہ قوم کو کس چیز کی ضرورت ہے‛ کونسا کام کہاں اور کس جگہ کرنا چاہیے‛ لوگوں کے احتیاج اور ضرورت کے مطابق ترقیاتی امور کی انجام دہی کے حوالے سے کسی نے بهی سوچنا گوارا نہیں کیا‛ جس کے سبب آج پاکستان کے شہروں‛ قصبوں اور دیہاتوں میں ترقیاتی کاموں‛ فلاحی اداروں‛ صحت‛ تعلیم روزگار …کے اعتبار سے ہمیں ان میں واضح فرق دیکهائی دیتا ہے۔ آپ ذرا شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کی طرف نظر دوڑائیں‛ ابھی تک اس علاقے کو آئینی حقوق سے محروم رکها گیا ہے‛ گلگت بلتستان کی آزادی کے دن سے لے کر آج تک اس علاقے کے عوام حکومت پاکستان سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں‛ مگر ابهی تک حکمرانوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی‛ ہر دور کے حکمران گلگت بلتستان کے عوام کو جهوٹ اور مکر و فریب کا سہارا لے کر بے وقوف بناتے رہے لیکن آخر کب تک۔ آخرکار حکمرانوں کے جهوٹ اور مکرو فریب اور دهوکہ دہی کا لاوا پهٹنا ہی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ وہ لاوا اب پک کر پهٹنے والا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اب باشعور ہوگئے ہیں‛ انہیں آہستہ آہستہ حکومت پاکستان کے مظالم سمجھ میں آرہے ہیں‛ وہ اپنا بهر پور دفاع کرنے کی پوزیشن میں کهڑے ہورہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر احتجاج اور ہڑتال کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں۔ ہڑتال کا یہ سلسلہ اگرچہ دو ماہ قبل شروع ہوا تها مگر منتخب نمائندوں کے وعدے پر اسے وقتی طور پر روک دیا گیا تھا, جی بی کے عوام کافی دنوں تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہے‛ مگر جب انھوں نے دیکها کہ منتخب نمائندے عوام کے مطالبات ایوان بالا کے کرسی نشینوں تک پہنچاکر ان کو حل کرانے سے قاصر ہیں تو عوام پختہ عزم اور بلند حوصلوں کے ساتھ پهر سے میدان میں اتر آنے پر مجبور ہوگئے۔یوں چار پانچ دنوں سے ٹهٹرتی سردی میں گلگت بلتستان کے ہزاروں کی تعداد میں عوام اپنے گهروں سے باہر نکل کر احتجاج کررہے ہیں اور حکومت سے مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ حقوق دو اور ٹیکس لو۔ یہ بالکل منطقی اور جائز مطالبہ ہے‛ حکمرانوں کو چاہیے کہ جی بی کے عوام کے مطالبات کو پورا کریں‛ اب انہیں جھوٹے وعدوں کے ذریعے خاموش رکهنے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے‛ ان میں بیداری کی لہر پھوٹ چکی ہے‛ لوگ پہلے کی طرح جاہل و ناخواندہ نہیں‛ وہ اب حکومت کی دوغلی سیاست کو خوب سمجهتے ہیں‛ لہذا گلگت بلتستان کو حقوق دینے میں حکمرانوں کا ہی مفاد ہے‛ لیت ولعل کی اب کوئی گنجائش نہیں. لگتا ایسا ہے کہ حکمرانوں کے جهوٹ اور مکرو فریب کا لاوا اب پھٹنے والا ہی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc