دیامر کے عوام اور علماء اپنے حقوق کی حصول کیلئے انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دیامر علماء کونسل

چلاس( نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں جاری عوامی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے سوشل میڈیا پر مسلسل منفی پروگنڈہ کیا جارہا ہے عوام کو ایک بار پھر مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی حکومتی سازشیں عروج پر ہے ۔اسی سلسلے میں علمائے دیامر اور دیامر کے عوام کا گلگت بلتستان میں جاری احتجاج اور مظاہروں کو سی پیک کے خلاف سازش قرار دیکر اس قسم کے احتجاج اور مظاہروں سے دور رہنے کیلئے سوشل میڈیا پر دیامر کے کئی اہم علمائے کرام سے منسوب کرکے غلط خبریں وائرل کیا جارہا ہے۔ اس پروپگنڈے کے خلاف ترجمان دیامر علماء اور گرینڈ جرگہ مولانا دین محمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن تمام منفی پروپگنڈوں کو مستردکرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو پیغام دیا ہے کہ دیگر تمام اضلاع کی طرح ضلع دیامر کے عوام ،تاجر برادری اور خصوصا علمائے کرام حقوق کی جدوجہد میں عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اس وقت گلگت شہر میں باقاعدہ اُس تحریک کا حصہ ہے اور انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُنہوں نے دیامر کے علماء سے منسوب تمام منفی خبروں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فقط دیامر کے عوام کو بدنام کرنے کیلئے گورنمنٹ کی چاپلوسی والے افراد کی سازش ہے۔ مجھ سمیت دیامر کے ممتاز عالم دین مولانا مزمل شاہ اور مولانا عبد المحیط نے ان تمام افواہوں کو قطعی طور پر مستردکرتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc