ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر۔۔۔ تحریر-انیس بیگ

جون ایلیا سرکار کہتے ہیں،
ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کا جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
اسی طرح کی ایک شکایت لیے گلگت بلتستان کی عوام سراپا احتجاج ہیں، اس طرح کے ہڑتال پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ، پہلے بھی اس شہر کے بازار عالم سرگوشی میں پائے گئے ہیں، ہفتے بھر کو سکون کی سانس مشکل تھی کہ ایک اور واقعے ہو جاتا تھا، کبھی سننے کو ملتا تھا کی گلگت میں شیعہ سنی فسادات میں متعدد افراد جاں سے گئے اور انتظار رہتا کہ جواب کس کی طرف سے اور کیسا آئے گا؟ لوگ سہمے گھروں میں محصور ہو جاتے، اسی طرح کے قیامت سوز واقعات کی فہرست لمبی ہے کبھی رستوں میں اتار اتار کر مار دیا جاتا کبھی گھروں میں دستی بم حملوں کی شکایات ملتیں، لیکن معجرہ تو کچھ اور ہوتا، تب بھی پڑوسی ملک بھارت کی تخریب کاری کہلاتا اور آج بھی یہی جتلاتے ہیں، یہ ایجنٹ وہ ایجنٹ، فلاں ایجنٹ ،بہر حال اب تو یہ بات پتھر پر لکیر کی طرح ہے شرحِ خواندگی میں گلگت بلتستان پاکستان کے باقی تمام صوبوں میں سے آگے ہے مزے کی بات تو یہ ہے 2004 تک یہاں اعلی تعلیمی ادارہ تک نہیں تھا، شاید یہی وجہ ہے۔ اب نہ پرانی باتیں رہی ہیں نہ واقعات لوگوں میں بھائی چارے کی فضا ہے اب نہ تو لسانی بنیادوں پر لوگ نکلتے ہیں نہ مزہبی تفرقہ بازی میں،اس احتجاج کی سب سے منفرد بات آج لوگ اپنے علاقے کے لیے نکلے ہیں سب کی زبان پر ایک ہی نعرے کا ورد ہے حقوق دو ٹکس دو ، اور اس سب کے بیج ایک چیز جو ازیت دیتی ہے وہ الیکٹرانک میڈیا کی عدم توجہ ہے، چار دن سے ہمالیہ اور کراکرم کے باسی ٹھٹھرتی سردی میں گھروں سے باہر نکل کر سراپا احتجاج ہیں، جو کی عام طور پر نہیں ہوتا لوگوں کے قافلے مختلف اضلاع سے گلگت کی طرف رواں دواں ہیں تقریباً 5000 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمد متوقع ہے۔ مالم جبہ اور سکردو کی برفباری کی خبر جھوٹ پر مبنی بھی چلا لیتے ہیں، پنجاب میں ہونے والے عجیب وغریب واقعات تو شہ سرخیوں میں ہوتے ہیں کبھی گدھے کے ساتھ تو کبھی مرغی کے ساتھ زیادتی یہاں افسوس اس بات پر ہے کی گلگت میں موجود نمائندوں سے موصول ہونے والے پیکیجیز کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے، علاقہ مکیں اس بات کی تشویش میں ہیں کیا اس علاقے کے لوگ اتنے ضروری نہیں؟ گورنمنٹ تو کرتی ہے میڈیا کیوں؟ ہمارے میڈیا کے 17سالا سفر میں گلگت بلتستان کی خوبصورتی وہاں کے موسم اور کچھ پہاڑوں کے علاؤہ کوئی چیز، بات نہ دکھائی گئی نہ اس کا ذکر ہوا، یہ لمحہ فکریہ جہاں امریکہ 5Gانٹرنیٹ لاؤنچ کرنے کی بات کر رہا ہے، وہی دنیا کا امن پسند علاقہ قرار دیے جانے والے گلگت بلتستان کے بعض جگہوں میں ٹیلیفون کی سہولت تک موجود نہیں، اس سب کے باوجود لوگوں میں پاکستان کے لیے جذبہ قابلِ دید ہے جو کی این ایل آئی کے وجود سے اور شہادتوں کے اعدادوشمار سے واضع طور پر عیاں ہے، اس کے علاؤہ گلگت بلتستان کے ہونہار طلبہ و اتھلیٹس نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ وقت وہاں کے غیور عوام کے جذبات و احساسات کو مجروح نہ کرے اور جلد اس مسلئے کا کوئی حل نکالے.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc