احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ کیا ہونا چاہیئے؟ تحریر: سنئیر ایڈوکیٹ احسان علی۔

آج گلگت بلتستان میں ظالمانہ و جابرانہ ٹیکسوں کے خلاف عوام کی مزاحمتی تحریک اپنے عروج پہ پہنچ چکی ہے اس تحریک میں چھوٹے بڑے تاجروں اور کاروباری طبقے کے علاوہ غریب طبقہ کے لوگ بھی بڑے پیمانے پہ شامل ہیں بظاہر ودہولڈنگ ٹیکس اور انکم ٹیکس وغیرہ براہ راست کاروباری طبقے سے ہی وصول کیا جاتا ہے مگر اس سرمایہ داری نظام میں کاروباری طبقہ ہمیشہ تمام ٹیکسوں کا بوجھ غریب صارفین کو منتقل کرتاہے اس لحاظ سے غریب طبقہ بھی ٹیکسوں سے براہ راست متاثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جی بی کا غریب کچلا ہوا طبقہ بھی شدومد سے اس احتجاجی تحریک میں شامل ہے غریب عوام اس تحریک کے ذریعے اپنے 70 سالہ محرومیوں کا بدلہ بھی لینا چاہتے ہیں اس وجہ سے تحریک میں عوام کو جوش و خروش بہت زیادہ ہے تحریک کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اب کرپٹ حکمرانوں پہ پریشر بڑھانے کیلئے تحریک کے اگلے مرحلے کو عوامی جزبات کے مطابق زیادہ ریڈیکل ہونا چاہیئے مگر تحریک کی موجودہ قیادت چونکہ غیر سیاسی تاجروں اور سرمایہ داری نظام کے حامی اصلاح پسند سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ہاتھوں میں ہے جنکی محدود سوچ و فکر اور ان کے طبقاتی مفادات اس تحریک کو زیادہ ریڈیکل شکل دینے کی راہ میں حائل ہے۔ اسی لئے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اب آگے کیاکرے اور اس تذبذب میں انہوں نے بلاسوچے سمجھے تمام اضلاع سے جلوسوں کو گلگت شہر میں لانے کا پروگرام بنایا ہے یہ منصوبہ انتہائی نقصان دہ ہونے کے علاوہ تحریک کے کارکنوں کو جلد تھکا دینے والا ہے نیز اس سے حکمرانوں پہ پریشر بھی نہیں بڑھے گا حکمران اور ان کے ماتحت انتظامیہ بھی یہی چاہیں گے کہ عوامی تحریک کے ایکٹیو کارکنان اور عام لوگ جلدی تھک ہار کر بیٹھ جائیں۔بدقسمتی سےتحریک کی موجودہ قیادت لاشعوری طور پہ حکمرانوں کا یہ کام آسان کررہی ہے۔ اسلئے اب ضرورت اس بات کی ھے کہ طلباء نوجوان وکلاء اور محنت کش اس تحریک کو موجودہ جمود سے نکال کر اسےاگلے انقلابی مرحلے میں لےجانے کیلئے پہلے سے زیادہ فعال ہوجائیں اور قیادت پہ دباو ڈال کرتحریک کے ایجنڈے میں ٹیکسوں کے خاتمے کے ساتھ بیروزگاری کا خاتمہ، روزگار ملنے تک 20000 روپے بےروزگاری الاونس کی ادائیگی، انتظامیہ، پولیس اورتمام محکموں سے بدعنوانی، ٹھیکوں میں کرپشن کا خاتمہ، چور دروازے سے کی گئی تمام بھرتیوں کاخاتمہ اور سرعام کرپٹ افسران اور موقع پرست منتخب نمائندوں کا عوام کے سامنے محاسبہ کرنا بھی شامل کیا جائے ان بنیادی عوامی مطالبات کو شامل کرکے تحریک میں زیادہ سے زیادہ پسے ہوئے عوام کو شامل کیا جاسکتا ہے اس مقصد کیلئے گاوں، یونین کونسل، تحصیل، سب ڈویژن اور ضلع سطح پہ طلباء مزدور کسان نوجوان اور وکلاء پہ مشتمل کمیٹیاں بنا کر تحریک کو گراس روٹ لیول تک لےجائیں تاکہ تحریک کے اگلے انقلابی پروگرام پہ عمل درآمد کیلئے مسلسل عوامی دباو بڑھا کر اس عوامی تحریک کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اختیارات بیوروکریسی سے اٹھا کر عوام کو دلایا جاسکے اور افسرشاہی کو ان کے اصل اوقات یعنی “عوام کے خادم” بنایا جاسکےجس دن تحریک کے ایجنڈے میں ان انقلابی مطالبات کو شامل کیا گیا تو حکمران گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو جائیں گےاور عوامی تحریک کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc