ڈپٹی کمشنر گلگت کے خط پر آغا راحت الحسینی اور دیگر رہنماوں نے اہم اقدم اُٹھا لیا۔

گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) ڈپٹی کمشنر گلگت کی جانب سے قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی اور فقہ جعفریہ کے دیگر علمائے کرام پر دہشت گردوں کی حملے کا انکشاف اور محتاط رہنے کی نوٹس کو مسترد کرتے ہوئےاُنہوں نے اُس خط کو حکومتی کی طرف سے دھمکی نامہ قرار دیا ہے۔ اُنکا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے علاقے میں امن قائم کیا ہے اور آج ہم نے عوامی ایشوز کی مکمل حمایت کی ہے۔جس کی وجہ سے ہمیں دھمکانے کی کوشش کی گی ہے۔۔ حکومت جواب دے ہماری جان کو کس سے اور کیوں خطرہ ہے؟ اگر آپ کے علم میں ہے تو آپ ان کو گرفتار کریں۔ اگر کسی بھی فرد کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو ذمےدار حفیظ الرحمان ہوگا۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس بار عوام آزاد ہیں اور حکومت کو سخت ردعمل کا سامنہ کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے اپنے پیغام میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو بغیر کسی مسلکی اختلاف کےقومی حقوق کی جدوجہد کیلئے تیار رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔

دوسری طرف عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے رہنماوں نے بھی مذکورہ خط کو حکومتی حربہ قرار دیتے ہوئے گلگت انتظامیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اور عوامی رہنماوں سمیت مذہبی شخصیات کو سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب کبھی گلگت بلتستان کے عوام حقوق کیلئے سر اُٹھاتے ہیں تو دہشت گردو سرگرم ہوتے ہیں اس مطلب یہ ہوا کہ ریاستی منتظمین میں سے کچھ لوگ گلگت بلتستان میں امن امان خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں مزید کہا ہے کہ ڈی سی گلگت گھڑی باغ پر عوامی عدالت میں آکر عوام کو بتائیں کہ اُنہیں یہ خبر کس نے دی اور معلوم ہونے کے باوجود دہشت گرد گرفتار کیوں نہیں ہوئے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc