شگر انتظامیہ کی جانب سے مدرسے میں لگنے والی آگ کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی پر مسلک نوربخشیہ کے لوگوں نے احتجاج کرنے کا پروگرام منسوخ کردیا۔

شگر(نامہ نگار)شگر انتظامیہ کی جانب سے مدرسے میں لگنے والی آگ کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی پر مسلک نوربخشیہ کے لوگوں نے احتجاج کرنے کا پروگرام منسوخ کردیا۔ شگر سنٹر میں مسلک نوربخشیہ کی مدرسے میں گذشتہ رات لگنے والی آگ کے بعد لوگوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ اسی سلسلے میں بعد از نماز جمعہ احتجاج کی کال دی تھی۔ تاہم ڈپٹی کمشنر شگر ذاکرحسین ،ایس پی سید الیاس حسین ، سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان،سابق ممبر ضلع کونسل ھاجی وزیر فداعلی نے ان کے عمائدین اور پیر نوربخشیہ شگر سید حسن شاہ اور دیگر مذہبی رہنماؤں کیساتھ طویل مذاکرات کی۔ جس کے نتیجے میں احتجاج کی کال واپس لی گئی۔ نوربخشیہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے خانقاہ معلی پہنچ گئے جہاں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ شگر سید طہٰ الموسوی، امام جمعہ اہلسنت مولوی عبدالقیوم،پیر نوربخشیہ سید حسن شاہ،سید محمد عراقی،حاجی وزیر فداعلی،راجہ محمد اعظم خان،عمران ندیم ،ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین،ایس پی شگر سید الیاس حسین نے کہا کہ شگر ہمیشہ سے مذہبی لحاظ سے پرامن علاقہ رہا ہے۔ یاہں رہنے والے تمام مسالک کے افراد ہمیشہ امن اور بھائی چارگی کیساتھ رہ رہے ہیں۔ کسی مسلک کو دوسرے کو کبھی کوئی شکایات نہیں رہا۔ اس واقعے میں کوئی شفاف تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی گئی۔ جو اس واقعے مکمل شفاف تحقیقات کررہے ہیں۔اگر کسی قسم کی کوئی شرارت یا تخریب کاری ثابت ہوئی تو اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی۔اس موقع پر شیعہ نوربخشیہ اور سنی بائی بھائی کا نعرہ لگایا گیا۔جبکہ ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc