ٹیکس مخالف احتجاج میں تیزی آتے ہی اچانک دہشتگردی کا خدشہ،سازش یا حقیقت؟

گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) ایک طرف گلگت کے تمام اضلاع میں مکمل مذہبی یکجہتی اور بھائی چارگی کے ساتھ عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر ہیں تو دوسری طرف ڈپٹی کمشنر گلگت کی جانب سے گلگت بلتستان میں شعیہ اثناعشری علمائے کرام کو دہشگردی کے خطرات کے پیش نظر سرگرمیاں محدود کرنے کا الرٹ عوام کیلئے پریشان کن ہے، تفصیلات کے مطابق ممتاز شعیہ عالم دین آغا راحت الحسینی سمیت 6 شعیہ علماء اور اکابرین کے نام لکھے گئے تحریری خط میں کہا ہے کہ دہشت گرد ان افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کیلئے منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر گلگت نے خط کے ذریعے آغا راحت الحسینی ، شیخ مرزا علی ، شیر علی صدر امامیہ کونسل ، فقیر شاہ سابق صدر امامیہ کونسل ، الیاس صدیقی رہنما ایم ڈبلیو ایم اور سابق وزیر قانون ساز اسمبلی دیدار علی کو ہدایات کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل وحمل نہ کرے اور اپنی جان کی حفاظت کیلئے اپنی معمول کی سرگرمیوں کو بھی محدود کرے ۔ ڈپٹی کمشنر گلگت نے ان شعیہ رہنماوں کی حفاظت کیلئے تحریری اطلاع ایس ایس پی گلگت کو بھی دیدی ہے ۔ سرکاری طور پر ایسے وقت میں جب پورے گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کیخلاف احتجاجی تحریک عروج پر پہنچ چکی ایسے خطرناک خط کو جاری کرنے کے اقدام کو ٹیکسوں کیخلاف تحریک کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیتے ہیں ۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت سارے سوالات اُٹھائے جارہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جب کبھی آواز اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہاں حالات خراب کئے جاتے ہیں جسکا بنیادی مقصد اس خطے کے عوام کے حقوق کیلئے احتجاج سے دور رکھنا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc