ضلع نگر میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماوں کا سیاسی جنگ۔ایک دوسرے پر الزامات کی بارش۔

نگر ( چیف رپورٹر) اپنے خلاف جاری ہونے والے بیانات پر شدید رد عمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے سینئیر نائب صدر محمد عباس طائی نے کہا کہ میرے خلاف بیان دینے والے افراد حسن سمائیری، محمد شاہ او ر حاجی قربان کا خود اپنا ووٹ بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے لئے کبھی نہیں پڑا ۔ ان لوگوں کو کرپشن کی بنیادپر پی پی پی سے نکالا گیا ہے ،ان کے پیچھے ایک بھی ووٹر نہیں ہے جبکہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کا اس وقت سے کار کن ہو ں جب شہید سیف الرحمان 1994 مسلم لیگ ن کے کرتا درتا ہو کرتے تھے یہ لوگ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو میرے خلاف کرنا چاہتے ہیں ۔ میں چیلینج کرتا ہوں کہ یہ لوگ نگر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک درجن کارکن بھی جمع کرا کے دکھادیں ۔ یہ تینوں افراد کبھی بھی کہیں بھی مسلم لیگ ن کی کوئی میٹنگ نہی کر سکتے ہیں ۔ جبکہ میں نے حال ہی میں سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ خصوصی اجلاس کی ہے ۔ مجھے صدارت صوبائی صدر مسلم لیگ ن نے دی ہے نہ کہ حاجی قربان ،حسن سمائیری یا محمد شاہ نے دی ہے میں جواب دہ صرف اپنے سینئیرز کے سامنے ہوں۔مذکورہ تینوں افراد کے کرپشن کے مکمل ثبوت میرے پاس موجود ہیں یہ لوگ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف ہوں جس کی میں مذمت کرتا ہوں ۔ میں وزیر اعلیٰ کا خلاف کیسے ہو سکتا ہوں ہاں نگر پر صوبائی حکومت کی توجہ کم ہونے پر ضلع نگر میں مسائل بہت بڑھ گئے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ کے دورے میں نگر کے مسائل ضرور حل ہونگے۔ مزکورہ تینوں افراد کے گھر والوں کا ووٹ تو درکنار ان کا اپنا ووٹ بھی دوسری جماعتوں کے لئے پڑا ہے ۔ پچھلی دفعہ سمائیر ویلی کا جلسہ بھی قلب علی کی وجہ سے کامیاب ہوا تھا ،دن رات محنت کر کے قلب علی نے کارکن جمع کئے تھے ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ مسلم لیگ ن کی کامیابی کے لئے وہ ان تینوں افراد سے فوری طور پر نجات حاصل کریں تاکہ مسلم لیگ ایک مظبوط سیاسی قوت بن کر سرزمین نگر پر ابھرے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc