سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے سیاست دانوں کا دھوم،ٰٖفیس بک میدان جنگ بنا ہوا ہے،گالیوں اور الزمات کی بوچھاڑ۔

اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) سوشل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافے کو دیکھ عوام نے پرنٹ میڈیا سے منہ موڑ لیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے معاشرے میں جہاں مقامی پرنٹ میڈیا میں عوام سچی اور معلوماتی خبروں کیلئے ترستے ہیں وہیں سوشل میڈیا نے اس خلاء کو پرُ کیا ہے۔ سیاست دانوں کا ایک دوسرے سے محاذ آرائی کیلئے ٹیوٹر ایک اکھاڑہ ہے لیکن گلگت بلتستان کے سیاست دانوں میں جہاں دور جدید کے لحاظ سے تعلیم کی کمی ہے وہیں یہ لوگ ابھی تک سیاسی طور پرنابالغ ہیں ۔ گلگت بلتستان کے سیاست دان فیس بک کو ذیادہ استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کو براہ راست اُن سے سوال کرنے کا بہترین موقع ملا ہوا ہے لیکن ان سیاست دانوں کا سیاسی مخالفین خاص طور وہ لوگ جو اُن سے اُنکی طرز حکمرانی پر سوال کرتے ہیں تو بڑا غصہ آتا ہے اور بغیر سوچے نازیبا الفاظ لکھ دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ہماری ٹیم نے گلگت بلتستان کے کئی طلباء اور سوشل ایکٹوسٹ سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ دراصل اُن کے پاس وہ اختیارات نہیں جیسے اُنکے پاس نام کے عہدے ہیں اور یہ لوگ اسی عہدے کی دفاع میں عوام خاص طور اُن افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو اُن سے اُن کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں۔ یوتھ لیڈران کا یہی کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت یا حمایت میں انکے کمنٹس اور مخالفین کو ننگی گالیاں اور الزمات جہاں سمجھدار طبقے کیلئے ایک طنزمزاح کی حیثیت رکھتے ہیں وہیں کسی خطے کے رہنماوں کا اس طرح کے اوپن پلیٹ فارم پر مخالفین کے ساتھ محاذ آرائی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہاں کس قسم کے لوگ حکمران بنا بیٹھا ہے۔ ایک سوشل ایکٹوسٹ نے حسنین رمل کی گرفتاری کے حوالے سے بتایا کہ اُنہیں اس الزام کے تحت گرفتار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر منافرت پھیلا رہا تھا لیکن اگر ہم گلگت بلتستان کے کئی اہم وزراء کی فیس وال کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے منافرت کسے کہتے ہیں۔ یہاں دراصل منافرت وہ نہیں جو مقامی سیاست دان پھیلاتے ہیں بلکہ گلگت بلتستان میں قومی حقوق کی بات کرنا ایک طرح سے منافرت پھیلانے کے زمرے میں ڈالا ہوا ہے۔ لہذا قانون فانذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ ذرا ایک نظر مقامی سیاست دانوں کے سوشل میڈیا پر بھی ڈالیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc