کوئٹہ چرچ پر حملہ اور کرسمس۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

کرسمس کرسچن کمیونٹی کی ایک بہت بڑی تہوار ہے .ان کی دو بڑی تہواریں یعنی عیدیں میں سے ایک ایسٹرا اور دوسری کرسمس یعنی حضرت عیسیٰ علیہاسلام کی یوم پیدائیش ہے .مسیح برداری اسے یسوع مسیح کی پیدائیش کا دن بھی کہتے ہیں .پاکستان میں مسیح برداری تمام اقلیت میں سے سب سے ذیادہ آبادی رکھنے والے اقلیتی قوم ہے جن کی تعداد 30 سے35 لاکھ کے قریب ہے جو کہ ہمارے ملک عزیز پاکستان کے آبادی کا کل 1.5℅ بنتا ہے لیکن عیسائی مذہب کی ذمہ داروں کی نزدیک ان کی آبادی ملکی آبادی میں چار سے پانچ فیصد ہے.پاکستان کے مسیحی بھی یہاں کے مسلمانوں کی طرح وطن عزیز سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور وہ اپنی مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں.لیکن کافی عرصے سے اس محب وطن کرسچن اور ان کے عبادت گاہوں کو وطن دشمن عناصر کی طرف سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے.حالانکہ دین اسلام نے اقیلتوں اور غیر مسلموں کے عبادت گاہوں کی تحفظ کی ضمانت دی ہوئی ہے اور آئین پاکستان بھی اقیلتوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہے.لیکن عرض پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے پچھلے کئی سالوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ان کے عبادت خانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کی کالونیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے .ان کے مذہبی تہواروں کے مواقع پر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن حکومت بے بس اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے .پشاور چرچ پر حملہ و بم دھماکہ لاہور میں ہونے والے بادمی باغ کا واقع ہو یا پارک میں کرسمس منانے کے لیے آنے والوں پر ہونے والے دھماکے.ہر طرف سے وطن دشمن کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے.اب کرسمس قریب آتے ہی ان وطن دشمنوں نے کوئیٹہ جیسی سرزمین جس نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شیعہ مسلم کے جنازے اٹھائے تھے آج اس بڑی اقلیت کے عبادت خانے پر بھی حملہ آور ہوئے .بزدل وطن دشمن کی طرف سے ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جان بحق جب کہ 34 افراد زخمی ہوئے ہیں.جب کہ کرسچن کے سب سے بڑی تہوار کرسمس جو کہ ان کے لیئے خوشی کا باعث تھا آنے والے ہی تھے.ان کی خوشی کو وطن دشمن ازلیٰ کی جانب سےایک بار پھر نشانہ بنایا اور ایک بار پھر انسانیت کا درد رکھنے والوں کو غمگین کر دیا.کیا وطن عزیز میں ایک بار پھر دہشت گرد سر تو نہیں اٹھا رہے کیا وطن عزیز میں ہونے والے مذموم ساشوں سے ہماری حکومت باخبر نہیں ہے.ہر سانحات کے بعد صرف مذمتی بیانات دینے سے دہشت گردوں کا قلہ قما ہو جائے گا.کیا مذمتی بیانات سے متاثرین کے غم بلائے جا سکے گا.نہیں اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوتی ہیں.ان کے لئے آئندہ پھر سانحات کے انتظار کرنے کی بجائے دشمن انسانیت دہشت گروہ کو نیست ونابود کرنے کی ضرورت ہے اس دعا کے ساتھ پرودگار عالم تو خالق ہے مسلمانوں کا بھی ‘عیسائی و سکھ ہندوں کا بھی.تیرے مظلوم مخلوق کی حفاظت فرما.اور میرے اس عظیم پاک دھرتی کو شیطان نما دہشت گردوں سے محفوظ فرما۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc