امیدوار کی کوالیفیکیشن۔ تحریر ایڈوکیٹ شکور خان

نارنجی رنگ کا اونی کوٹ پہنے جناح کیپ سر پہ سجائے ایک شخص طاؤس ہائی سکول کے گراونڈ میں تقریر کے لئے کھڑا ہوا  وہ دھیمی آواز میں کچھ بول رہا تھا اور لوگوں کا اژدھام بڑی انہماک سے سن رہا تھا۔  بظاہر اس کی تقریر میں کوئی خاص بات نہ تھی لیکن آنا فانا اس کی شہرت پورے یاسن میں پھیلی اور بھاری اکثریت سے یاسن کی تاریخ کا پہلا ممبر آف ناردرن ائیریاز کونسل منتخب ہوا۔  ان دنوں میں مقامی سکول میں جما‏‏‏‏‏‏‏عت دوم کا طالب علم تھا، بھتیجوں کے ہمراہ سیاسی جلسہ دیکھنے گیا تھا۔ الیکشن کے دنوں اور الیکشن کے انعقاد کےچند ماہ بعد تک گھرگھر اس شخص کے چرچے تھے، مقامی امیدوار بھی الیکشن لڑ چکے تھے لیکن ان کا کہی ذکر تک نہ تھا۔  موصوف کا اسم گرامی فداعلی تھا اس کا خاندان ہنزہ سے آکر گوپس میں آباد تھا، الیکشن جیتنے کے بعد اس شخص نے یاسن کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا، یوں اس کی کونسلرشپ کا دورانیہ اختتام پزیر ہوا، اور کسی نامعلوم سال کےنامعلوم موسم میں مرکھپ گیا،  نہ کوئی تعزیت کو گیا نہ کسی کو افسوس ہوا، ان دنوں آج کی طرح ہرجگہ تعزیت بطورفیشن مروج نہ تھا بلکہ رشتوں اور تعلق داروں تک محدود تھا، ویسے بھی مرحوم نے اپنی یاد کےلئے کوئی حوالہ بھی نہ چھوڑا تھا۔  ترقیاتی سکیمیں لےکےیاسن آنا دور کی بات،  شفا پانے کی نیت سے بوڑھی ہڑیاں درکوت گرم چشمہ میں ڈبونے کےلئے ہی کاش ایک دفعہ آجاتا ! ۔ آج  یاسن کےجوانوں کو اس بات کی خبر نہیں ہےکہ کوئی فداعلی بھی ان کا کونسلر رہ چکا تھا۔

میں نے بہت غور کیا کہ ایک اجنبی کو ان دنوں کیسے شہرت ملی !  یاسن میں نہ اس کی قومیت تھی نہ رشتہ داری نہ خدمات۔   فداعلی نہ تعلیم یافتہ تھا نہ ہنرمیں یکتا تھا نہ شجاعت کی داستان اس سے منسوب تھی پھربھی کس آسانی سے انتخاب جیتا تھا۔  تین چیزیں البتہ ایسی ضرور تھیں جو اس کی شخصیت تو نہیں البتہ جسامت کو نمایاں کرتی تھیں،  وہ تھیں اس کا نارنجی کوٹ، قراقلی ٹوپی اوریاسن کے لئے اس کا اجنبی ہونا،  جی ہاں ! اس کےپاس یہی تین فیصلہ کن ہتھیارتھے جن کی مدد سے الیکشن کا معرکہ اس نے کامیابی سے سر کیا۔ سفیدی مائل اورہلکا براون  کلرکا اونی کوٹ جے مقامی بروشسکی زبان میں (اوٹیلی یا بروم شے کوٹ) کہا جاتا ہے، پہننے کا یاسن میں عام رواج تھا لیکن فداعلی اورنج کلر کا  کوٹ پہن کر آگیا،  یہ انقلابی تبدیلی تھی جس سے مقامی باشندوں کا متاثر ہونا فطری امر تھا، جناح کیپ نےقامت کو باروپ  بنایا اوپر سے اجنبی چہرے نےجادو کا کام  کردکھایا۔ یاسن کی تاریخ گواہ ہےکہ یہاں کےباسی مہمان نوازی میں حد سےگزرتےرہیں جو ان کےلئے برکت کی بجائے ہمیشہ  تباہی لےکے آئی۔  اجنبیوں کی غیرضروری آؤبگھت،  خود پراوراپنوں پر انہیں ترجیح اورفوقیت دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہترین سپاسالار اور جنگجو ہونے کے باوجود قدیم باشندے حکمران نہ بن سکے۔ آزاد ولی نامی شخص سوات خیبرپختونخوا کا باشندہ تھا، جس کی یاسن میں نہ کوئی جائیداد تھی نہ آنا جانا، الیکشن لڑنے کی نیت سے اچانک یاسن وارد ہوا، کشادہ پیشانی اور پجارو گاڑی !  لوگ موصوف سے متاثر کیسے نہ ہوتے؟ الیکشن کا انعقاد ہوا،  گھمسان کا رن پڑا، لیکن قسمت نے یاوری نہ کی، آزاد ولی نےبھاری بھرکم ووٹ حاصل کئے،  بہت  قلیل ووٹوں سے ہارا،  خود آزاد ولی سے کہی زیادہ زوردار دھچکا اس کے حمایتیوں کو لگا، سیاسی مخالفین کا ایک دوسرے کے گھروں میں آناجانا بند ہوا، بہن، بیٹی کو تہواروں پہ خاص سوغات اورتحائف بھیجنے کی قدیم رسم سیاست کی بھینٹ چڑھ کرمنقطع ہوگئ، ہلکی پھلکی دشمنیاں بھی پالی گئیں۔،

 موصوف رزلٹ سننے کے بعد ذرا بھی نہیں ٹھرا، یہ جا وہ جا سوات پہنچ کردم لیا، اس کے یوں چلے جانے کےلئے بھی یار لوگوں نے جواز ڈھونڈ لئے، کہنا شروع کردیا کہ آزاد ولی کے ساتھ زیادتی ہوگئ، اسے ہارنا نہیں چاہیےتھا،  کچھ سیانوں نے دھاندلی کا الزام بھی لگایا، اور تو اور سابق ٹیکنوکریٹ و نگران وزیرمحترم الواعز علی مراد صاحب نے اس کی گرد اڑا کر جاتی گاڑی دیکھ کر اس کی ہار کو یاسن قوم کی بدقسمتی سےتعبیر کرکے افسوس کا اظہار کیا۔

 غذر کی عمومی ذہنیت کا تجزیہ کرکےمانسہرہ کا باشندہ بھی الیکشن میں کود پڑا اور عوامی مینڈیٹ کا خاصا حصہ اس کی جولی میں گرا، کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر اسے غذرچھوڑنا پڑا  ورنہ اگلےالیکشن میں اس کی جیت یقینی تھی اور موصوف کے جیالے ہزارہ وال ساز پربھنگڑے ڈالتے جبکہ مقامی موسیقار اور شکست خوردہ عناصر منہ چھپاتےپھرتے۔ درج بالا بیانئےکی روشنی میں نان لوکل حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے یعنی جن کےپاس اپنا حلقہ انتخاب نہ ہو، محلے میں کوئی گھاس نہ ڈالتا ہو، کونسلر کے انتخاب میں حمایت کجا، گلی کا دکاندار بھی بینچ پر بیکار بیٹھنے سے منا کرتا ہو، وہ گھبرائے مت، کسی سے اتہ پتہ پوچھ کر یا سن تشریف لے آئےاور بےخطرکود جائیے الیکشن نامی کھیل میں، ،  پریشان مت ہوں آپ اکیلےنہیں، دیوانوں، مستانوں، فرزانوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر ہمراہ ہو گا۔ ہاں چلتے چلتے آپ کو کوالیفیکیشن اور ڈس کوالفکیشن بھی بتادوں، اعلی تعلیم، قابلیت، جزبہ ایثار و قربانی، حب الوطنی یا ایمانداری کی ہرگز ضرورت نہیں۔ علم، عقل، شعور نام کی چیز نہ ہو اور نہ کچھ کرنے کی نیت ہو، یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں، جدید دور میں شاید کسی کو ان کی ضرورت ہو لیکن ہمارے ہاں ان کی اہمیت نہیں بلکہ یہ سب خامیاں شمار کی جاتی ہیں۔ اب بات کوالفیکیشن کی ہوجا‏ئے، یعنی : بلند قامت اورجسم خوب پھیلا ہوا  اور چربی سے پر ہونا چاہیے، آپ جو کوئی بھی ہو    یقین جانو، آپ کےووٹر کوشخصیت کے معنی معلوم نہیں ہیں اس لئےوہ آج تک  دریائی گھوڑے کی مانند بھاری بھرکم جسموں کو شخصیت سمجھتا رہا ہے(Hippopotamus)

لہذا خود آجائیے یا کسی تنومند مزدور کو ہی بھیج  دیجیے جیت یقینی ہے ورنہ پیسے واپس۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc