جی بی ہاوس اسلام آباد میں شراب کے خالی بوتلوں کی بھرمار نے حکومت گلگت بلتستا ن پر کئی سوالات اُٹھا لئے۔ ایف آئی اے سے تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) اسلام آباد میں موجود گلگت بلتستان ہاوس کے حوالے سے ماضی میں بھی کئی سولات اُٹھتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کی حکومت سے اس قسم کے گھناونے کام میں ملوث افراد پر الزامات کے حوالے سے تحقیق کرنے کے بجائے میڈیا میں تشہیر کرنے والوں کے خلاف ریاستی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان ہاوس میں ہونے والے غیر اسلامی غیر قانونی حرکات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آج گلگت بلتستان کے کچھ سنئیر صحافیوں نے گلگت بلتستان ہاوس اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ کے کمرے کی بلکل عقب میں موجود کچرے سے کئی درجن اعلیٰ قسم کے شراب کی بوتلوں کی ویڈیو بنا کر گلگت بلتستان ہاوس کے حوالے سے ماضی میں لگائے جانے والے تمام الزامات کو حقیقت کی روپ میں بدل دیا۔ المیہ یہ ہے ایک اسلامی ملک کے دارلخلافہ میں شراب کا کھلے عام استعمال وہ بھی گلگت بلتستان ہاوس جہاں کے عوام کی سادہ لوحی اور ایمانداری کی پاکستان بھر میں مثالیں دی جاتی ہے، سوالیہ نشان ہے۔ گلگت بلتستان ہاوس میں اس قسم کے گھناونی کا میں کون ملوث ہے یہ حکومت گلگت بلتستان ہی بتا سکتا ہے لیکن اس فعل نے گلگت بلتستان کے عوام کا سرشرم سے جھکا دیا کیونکہ وزیر اعلیٰ کے حوالے ماضی میں اُنکی پارٹی کے لوگ کہتے رہے ہیں کہ وہ ایک حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ عالم دین بھی ہے لیکن اُن کے دور حکومت میں کبھی وومن ٹرفکینگ اور کبھی شراب کے بوتلوں کی برآمدگی اُن کی طرز حکومت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ کچھ سنئیر صحافیوں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہم حکومت کو ہمیشہ آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حکومت آئینہ دیکھ کر ایکشن کرنے کے بجائے ہمیں ہی ذدکوب کرنے کیلئے حربے استعمال کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے اس قسم کے جرائم پیشہ افراد کو مزید تقویت ملتی ہے اور آج گلگت بلتستان ہاوس قبحہ خانہ بن چُکی ہے جس کے اصل ذمہ دار گلگت بلتستان کی حکومت ہے کیونکہ ایک دینی ادارے سے تعلیم حاصل کرنے بعد سیاست میں آنے والے کے دور حکومت میں اس قسم کے مسلسل واقعات اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ حکومت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں وزیر اعلیٰ سے بھی ذیادہ طاقت ور ہیں جو اس قومی ہاوس میں اس قسم کے گھناونے کام میں ملوث ہیں یا اُنکی ایماء پر یہ سب ہورہا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم گلگت بلتستان کے صحافیوں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ معاملہ بھی سیکس اسکینڈل کی طرح دب سکتا ہے لہذا ایف آئے کو اس سلسلے میں براہ راست تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc