یروشلم اور مسلمان۔ تحریر: محمد عثمان حسین

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بیان کے بعد دنیائے اسلام سمیت مغربی ممالک میں بھی احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے. سوشل میڈیا پر بھی احتجاجی مہم زورشور سے جاری ہے . یروشلم کی اہمیت کی وجہ مسجد اقصئ ہے. یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ،بیت المقدس 1 اگست 1967 کو اسرائیلی قبضے میں چلا گیا21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
امریکہ پہلے ہی مشرقی وسطا کو فرقہ وارنہ بنیادوں میں تقسیم کرکے اس حد تک کمزور کر چکا ہے کہ لیبیا اور شام جیسی معاشی طور پرمستحکم ممالک کی بنیادے خانہ جنگی کی وجہ سے کمزور ہوچکی ہے. یمن میں حکومت نام کی کوئی شے نہیں عراق امریکہ کی ایک ریاست کا منظر پیش کر رہی ہے.مشرقی وسطائی ریاستوں کے احوال کے بعد ترکی واحد اسلامی ریاست ہیں جس کی کی اپنی ایک واضح پالیسی ہے اور ترک صدر اسلامی دنیا میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں. لیکن یہاں کئی سوالات اٹھتےہیں کہ کیا بیت المقدس کی آذادی کے لیے مسلم ریاستوں کو جنگ لڑنی ہوگئی .کیا امریکہ اقوام متحدہ یا او آئی سی اسکا حل نکال لینگے یا کوئی اور راستہ نکالنا ہوگا. کسی بھی مسلم ریاست یا اسلامی اتحآدی افواج کو جنگ کی طرف دیھکیلنا حماقت ہوگئی . اسلامی ممالک سب ملکر امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کرکے معاشی بائیکاٹ کے زریعے امریکہ کو اسرائیلی پست پناہی سے روک سکتے ہیں . اس مسلئے پر ترک صدر کی کوششوں سے 13 دسمبر کو اوآئی سی کا اہم اجلاس ترک شہر استنبول میں ہوا .اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں 16 ممالک کے سربراہان اور باقی ممالک کے سربراہان کے نمائندے موجود تھے. امت مسلمہ کے سب سے اہم مسلئے پر بھی بشتر اسلامی ممالک کے سربراہان کی خود شرکت نہ کرنا باعث آذیت ہیں .بعض سربراہوں کی شرکت نہ کرنے کی وجہ ترکی سے سیاسی اختلافات بتائے جاتے ہیں.لیکن بیت المقدس جیسے اہم مسلئے پر اپنی مفادات کو امت کے اجتماعی مفادات پر ترجیح دینا بیوقوفی ہے.اسرائیل مسلم امہ اور بلخصوص ہمسائہ ممالک کے وجود کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے. فلسطینی صدرمحمود عباس نے اجلاس کو اہم اور کامیاب قرار دیا ہے.او آئی سی کے جنرل سیکریٹری اور مسلم ممالک کے نمائندوں نے ایک دفعہ پھر او آئی سی کے پلیٹ فارم سے امریکی صدر کے بیان کی مذمت کی.بین الاقوامی مبصرین نے اس اجلاس کو بے سود قرار دیا ہے.مبصرین کا کہنا ہے کہ بجائے مذمت کے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کو فلسطین کی آذادی اور بیت المقدس کے تحفظ کےلئے ایک بہتر پالیسی تشکیل دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد کرنا چاہئے. موجودہ اجلاس سے اسرائیل ,امریکہ اور دیگر اسلام دشمن ممالک کو یہ پیغام ضرور گیا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس مسلئے کی وجہ سے دنیا تیسری عالمی جنگ کے لپیٹ میں آسکتی ہے. مشہور کہاوت ہے.”نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہیں” یہ حقیقت ہے کہ او آئی سی اپنی اہداف حاصل نہیں کرسکی ہے لیکن ہر وقت تنقید سے بہتر ہے ہم موجودہ صورت حال میں ترک صدر رجب طیب اردگان کی کاوشوں اور او آئی سی کی اقدامات کی حوصلہ آفزائی کرئے. سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی, حشرمیں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا, (علامہ محمد اقبال)

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc