عوام ، حکمران اور سیلاب تحریر | آصف یبگو

عوام ، حکمران اور سیلاب تحریر | آصف یبگو

       حالیہ دنوں بلتستان کے کچھ علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے ۔ کچھ لوگ اسے اللّه کا عذاب کہہ رہے ہیں تو کچھ اسے اللّه کا امتحان۔ یہ تو لوگوں کی اپنی اپنی راے ہے. لکین سیلاب کی وجہ سے جہاں مالی نقصان پہنچا ہے ساتھ ہی ساتھ اپنے ساتھ کچھ قیمتی جانوں کو بھی بہا لے گیا۔ اس سیلاب نے جسے بھی اپنے سامنے پایا اسے صفا ہستی سے مٹا دیا ۔ 50 سے زائد گھر ، لاتعداد پھلدار درخت ذر خیز کھیت دیکھتے ہی دیکھتے سیلاب کے نذر ہو گئے۔سکردو کو شگر کھرمنگ اور گانچھے کو ملانے والا حسین آباد نالے کا RCC پل بھی سیلاب کا مقابلہ نہ کر پایا ۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے گھر سے بے گھر ہو گے ۔ لوگوں کی پوری زندگی کی کمائی ایک پل میں پانی اور کیچڑ کا حصّہ بن گئی ۔ کسی کا پنشن کاپیسا تھا ، تو کسی کی بیٹی کا جہیز، کسی کا حج کے لیے ایک ایک کر کے جمع کیا ہوا پیسا۔ المختصر یہ کہ سیلاب نے اپنے ساتھ بہت سی امیدوں کو بہا لے گیا اور بہت سارے خوابوں پر پانی پھیر دیا.

اب یہ یہاں کی گورنمنٹ کی ذمہ داری بنتی ہے کی ان لوگوں کی فریاد کو پہنچھے اور ان کی مدد کرے ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ وزیراعلی صاحب خود اسلام آباد میں A.C کی ہوا کھا رہے ہیں ۔ انہوں نے زحمت نہیں کیا کہ سیلاب زدگان علاقوں کا دورہ کرے اور ان لواحقین کی دلجوئی کرے ۔ سابقہ وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تمام وزرا نے اسلام آباد حاضری کو یقینی بنا دیا ۔ لوگ بے گھر ہو کے سڑکوں اور عبادت گاہوں پر رہنے پہ مجبور ہیں. لیکن حکمران اپنی ذمہداریوں سےناواقف ابھی تک سابق وزیراعظم کے تا حیات نااہل ہونے کی غم سے سکتے میں پڑے ہوے ہیں ۔ مگر دوسرے نام نہاد سیاسی وہ مذہبی جماعتیں بھی صرف اپنی سیاست کو چمکانے کے حد تک ہی نظر آتی ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کچھ سفاک دل درندوں نے ان لاچار لوگوں کو بھی نہیں بخشا اور سیلاب زدہگان کے نام پر دوسرے علاقوں میں جا کےچندہ جمع کر کے اپنی جیبیں گرم کی جیسا کہ دو روز قبل کریس میں ہوا۔

 

اب  کہاں  جائے  کوئی  کس  سے  مصنفی چایے

عادل  و  حاکم  و سپاہ  سب منافق ہیں

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc