برما کے بعد چین بھی مسلمانوں کے مسائل میں مسلسل اضافہ۔مسلمانوں کی آبادی والے بڑے صوبےمیں تشویشناک اقدام شروع۔

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مسلم اکثریتی صوبے میں حکام نے مسلمانوں کو امتیازی سلوک کانشانہ بناتے ہوئے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ، بلڈ گروپ ٹیسٹ اور آئی سکین شروع کر دیا ہے۔ چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی یغور نسل کی ایک کروڑ مسلمان آبادی کا ڈی این اے، بلڈ گروپ، آئی سکین، فنگر پرنٹ اور بائیومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کی تما م سرگرمیوں پر نظر رکھنااور ایک جمع شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انھیں رجسٹرڈ کرنا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ جہاں مسلمانوں کو پہلے ہی بدھ متوں کے تشدد اور تعصب کا سامنا ہے ۔اب مسلمانوں کا گھیرائو مزید سخت کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایک کروڑ مسلمان بنیادی شہری حقوق سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ سنکیانگ مسلمانوں کےلئے ایک وسیع جیل کادرجہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ڈیٹا کولیکشن کے نتیجے میں معمولی جرائم یا تنازعات کی صورت میں بھی مسلمان آبادی کو سختی حکومتی عتاب اور سزائوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو ایک مستقل دبائو کے زیر اثر رکھنا ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سنکیانگ کے حکام شدت پسندی کا جواز گھڑ کر مسلمانوں پر رمضان المبارک میں روزے کھنے اور نماز سمیت بنیاد مذہبی فرائض کی ادائیگیوں پر بھی پابندیاں لگاتے رہتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc