می زوس ( انسان خور) عبدال خان نمبر 2۔۔ تحریر شریف ولی کھرمنگی

بلتستان کے مختلف علاقوں میں جب محلے کا کوئی بندہ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا کرے تو لوگ کہتے کہ یہ تو “مِی زوس عبدال خان” ہے… عبدال خان شگر کا ایک معروف ظالم “چو” یعنی راجا گزرا ہے جسکی بربریت تاریخ میں مثال بن گئی… کیونکہ وہ لوگوں سے زبردستی مویشی اٹھا کر کھاجانے کا عادی تھا. لوگ اس سے ڈر کے مارے انکار نہیں کر سکتا یوں ہرکوئی اپنی باری کا انتظار کرتا اور عبدال خان کے کارندے اپنی پسند کی مویشی اٹھا لیا کرتا. گاؤں کی ایک بڑھیا کی جب باری آگئی تو اس کے گھر صرف ایک بکری کا بچہ تھا, دیکھنے میں بھی بہت ہی پیارا… اسے بڑھیا نے بہت ہی لاڈ پیار سے پالا تھا. کچھ اور تھا نہیں تو ظالم نے وہی اٹھوا لیا. عبدال خان کو بکری کے بچے کا گوشت بہت زیادہ پسند آگیا, اور بڑھیا کو بلا کر پوچھ گچھ کی…. ظالم سے مرعوب ہوکر بڑھیا نے بکری کے بچے کو زیادہ توجہ اور خوش خوراکی کا بتایا تو عبدالخان کے منہ میں پانی آگیا… اس نے سوچا جو بڑھیا ایک بکری کے بچے کو خوش خوراکی سے اتنا ذائقہ دار بنا سکتی ہے, وہ خود کتنا ذائقہ دار کھانے کھاتی ہوگی…. یوں وہ ظالم بڑھیا کو ذبح کروا کر کھا گیا…. اور “می زوس” یعنی انسان خور کے نام سے تاریخ میں امر ہوگیا۔۔ اسی کو موجودہ اصطلاح میں “گلو بٹ” کے نام نامی سے بھی تشبیہہ دیی جاسکتی ہے… جوکہ طاقت کے نشے میں قانون کو لات مار کر من مانی, دھونس دھمکی اور ظلم و بربریت پر اتر آتا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے خبریں تھیں کہ نوزائدہ ضلع کھرمنگ میں دوسرے محکموں کی طرح قصائیوں کو بھی لائسنس دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے. اطلاعات کے مطابق پورے کھرمنگ میں صرف ایک قصائی والے کو لائسنس دیا گیا جبکہ دیگر علاقوں کے قصائیوں کو قانون کے پابندی کرانے کیلئے سرکاری ادارے متحرک ہوگئے. کئی قصابوں سے اسسٹنٹ کمشنر نےجرمانے لئے اور انکا کوئی ریکارڈ بظاہر نہیں رکھا گیا. نہ ہی جرمانہ عاید ہونے والوں سے پیسے لیکر کوئی رسید دی گئی. یہ معاملہ جگہ جگہ اٹھتا گیا اور سوشل میڈیا تک آپہونچا. لوگوں نے اس معاملے پر اےسی کی حرکت کو آڑے ہاتھوں لیا. خبریں عام ہوکر متعلقہ اے سی تک بھی پہنچا اور می زوس عبدال خان کے کارندوں یعنی کچھ مقامی نمک خوروں کی وساطت سے سوشل میڈیا پر اٹھانے والے کی اطلاع بھی ان کو مل گئی.اس نے ٹھان لی کہ ان کے چہرے سے نقاب ہٹانے والوں کو سبق سکھانا ضروری ہے… یوں کھرمنگ کا اے سی می زوس عبدال خان بن گیا. مبینہ طور پر اس نے مقامی لوگوں کو جن سے جرمانے لئے تھے, ڈرا دھمکا کر اور لالچ دیکر بیان دلوایا کہ اے سی نے کوئی جرمانہ نہیں لیا….. اور معاملے کو اٹھانے والے کے گھر اور رشتے داروں تک کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا. کئی لوگوں کو دفتر لے جاکر پوچھ گچھ کی اور بھیانک نتایج کی دھمکیاں بھی دی گئیں. جب کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہوا, اور جن سے پیسے لئے گئے تھے اور جگہ جگہ اپنی مظلومیت کا رونا روتے رہے, وہ بھی مکر گئے تو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنیوالا بھی پوسٹ ہٹانے پر مجبورہو گیا. مگر اطلاع کے مطابق اب اے سی کے خلاف انکوائری بٹھا دی گئی ہے۔ اس معاملے سے صرف می زوس عبدال خان ہی کا کردار نہیں کھلتا, بلکہ ایسے کرداروں کا بھی پتہ لگ جاتا ہے جو مصلحت کی خاطر سچ بولنے کی ہمت کھو بیٹھتے ہیں, جو وقتی دھمکیوں پر ڈر جاتے ہیں, جو بزدل ہی نہیں منافق بھی ہیں, جو نعرے حسینیت کی لگاتے ہیں اور اپنے ہی معاشرے میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو نا انصافی کہنے کی جرات نہیں کرتے. ھیھات من الذلہ کہنا اور امام حسین ع کے غم میںں سر پیٹنا آسان ہے, مگر منافقوں کیلئے ایک معمولی سے افسر (جوکہ قابلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ عمر بڑھنے کی وجہ سے پٹواری سے اوپر ہوتا اے سی بنا ہے) کے سامنے سچ کو سچ کہنے کی جرات کرنا مشکل….
عبدال خان کو بھی ہم بتانا چاہتے ہیں کہ یہ اکیسویں صدی ہے, یہاں پر بکری کے بچے کو بری نظر سے دیکھنے والوں کی خبر رکھنے والے موجود ہیں. اسلئے اب تمہارے پاس می زوس عبدال خان ثانی بننے کا کوئی چانس نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc