باریک بینی ٹرمپ کا اعلان۔ تحریر : عجب نور بومل

امریکی پالیسیوں کا جائیزہ لیں تو آپ کو بخوبی علم ہوگا کہ امریکی سیاست میں جو بھی ہوتا ہے با قا عدہ منصوبے کے تحت ہو تا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں لانا اور اسکا متعصب پسند رویہ دکھانا یہ سب امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔جب امریکہ کو علم ہوا کہ اس کے مقابلے میں دوسری طاقتیں بھی دنیا میں اثر و ُ رسوخ بڑھارہی ہیں تو انھیں اپنی پالیسی تبدیل کرنی پڑی اور ہیلری کلنٹن کے بجائے ٹرمپ کو لا یا گیا۔
چو نکہ ٹرمپ اک جارح مزاج ،انتہا پسند اور من مانی کرنے والا شخص ہے۔انھوں نے اپنے انتخابی مہم میں ہی مسلما نوں کے خلاف زہر اُگلنا شروع کر دیا تھا۔او ر صدر بنتے ہی سات سے زائد اسلامی ریاستوں کے لیے امریکی سفر پر پابندی عائد کر دی۔ٹرمپ کو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا پاگل قرار دیتے ہوئے نشانہ بنا تی ہیں۔لیکن تمام امریکن بظاہر ایسا رویہ اختیار کروا کر گویا دُنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر ر ہے ہیں یا سچ مچ میں ۔۔ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کا اعلان کر کے پورے عالم اسلام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔یہ ایسا نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اچانک یہ اعلان کر دیا ہے ۔یہ منصوبہ بندی ۲۲ سال سے کر رہے تھے اور اس دور کے صدور کو ایسی صورت حال اور مواقع نہیں تھے جو آج ہے۔۹۵ ۱۹ کے کونسل ایکٹ کے تحت امریکہ اپنا سفارت خا نے کو یرو شلم منتقل کرنیکا پابند تھا۔لیکن ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم میں اس بات کا ذکر کیا تھا۔دنیا میں مسلم ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں اور اپنے اندرونی معملات میں الجھی ہوئی ہے اور اک دوسرے کے دشمن بن بیٹھے ہیں۔مشرق وسطیٰ کی دو بڑ ی پاور ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں ،یمن اور سعودی حکام،شام کی صورت حال اور عراق داعش سے لڑ رہی ہے اور قطر بلکل تنہا ہے اور ترکی ریجنل حجمن بننے کا پر تول رہا ہے۔۔ان سب صورت حال کو دیکھ کر صیہونی اور امریکی مل کر بیت المقدس کو دارالحکومت قرارا دے رہے ہیں کیونکہ مسلم ممالک احتجاج اور جلاوء گھیراو کے علاو کچھ نہیں کر سکتے۔
امریکہ کے اس اعلان سے اسرایئل دارلحکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے یا پوری دنیا میں تن و تنہا رہ جا یگا کیونکہ پوری دنیا نے ٹرمپ کے اس اعلان کی مذ مت کی ہیں اور اس عمل کو خطرناک اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور پوری مسلم اُمہ سراپا احتجاج ہے۔ٹرمپ نے ہیومن رایئٹس کی وایلیشن کی ہے اور UN CHARTER ،UN RESOLUTION کی دھجیاں اڑا تے ہوے ایک مقبوضہ علاقے کو دارلحکومت بنا نے کا اعلان کیا ہے اگر ایسا ہوا تو امریکہ پہلا ملک ہوگا جس کا سفارت خانہ یروشلم میں ہوگا۔ یروشلم سب سے مقدس اور متنازعہ شہرہے۔تین ہزار سال پہلے حضرت داودؑ نے اپنی عظیم سلطنت کا دارلحکومت بنایا تھا۔اور یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ کا یئنات کی تخلیق یہی سے شروع ہوئی تھی اور حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری بھی اسی شہر میں کی تھی۔مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو یہی معلوب کیا تھا اور یہی انکا مقدس کلیسا موجود ہے۔مسلمانوں کی عقیدے کے اعتبار سے حضورﷺ نے معراج جانے سے پہلے تمام انبیئاؑ کی امامت اسی شہر میں موجود مسجد اقصیٰ میں کی تھی۔اور مسلمانوں کا پہلا قبلہ بیت المقدس بھی اسی شہر میں واقع ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور عیسائی ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے بر سر پیکار رہے ہیں اور مسلمانوں نے یروشلم کو آزاد کرانے کے لیے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں صلیبی جنگیں لڑیں۔اب تک یروشلم کے لیے مسلمان اور یہودی آپس میں لڑ ر رہے ہیں۔
جنگ عظیم اول کے بعد جب خلافت عثمانیہ کمزور ہو گئی اور برطانیہ اور فرانس نے خلافت کے بہت سے علاقے پر قبضہ کر لیا۔۔
اٹھارویں صدی میں یورپ میں Nationalism کی تحریک شروع ہوئی تو تب یہودیوں نے بھی zionist or zoinism کے تحت اپنے لیے اک الگ ریاست کی تحریک شروع کی چونکہ یہودی پورے یورپ میں بسے ہویئے تھے اور جنگ عظیم اول کے بعد برطانیہ نے Belfoure declartion کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں اک الگ ریاست بنانے میں مدد کی اور ۱۹۳۰ تک سات لاکھ سے زائد یہودی آباد ہوگئے اور ۱۹۳۶میں عرب نے یہودی آبادکاری کے خلاف مزاحمت کی اور بلا آخر اقوام متحدہ نے اک قرار داد کے تحت اسرائیل اور فلسطین کو الگ الگ ریاست بنائی،اور ۱۹۴۸ کو اسرائیل نے اک آزاد ریاست کا اعلان کر دیا۔لیکن عرب مما لک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور ۱۹۴۸ اور۱۹۶۷ میں عرب اسرائیل جنگ لڑی گئی اور فلسطین کے ۷۰ فیصد حصہ پر اسریئل کے قبضے میں چلا گیا،اوربیتُ ا لمقدس پر بھی اسرائیل کا قبضہ جم گیا ۔ آج اک بار پھر مسلمانوں کا مقدس شہر خون سے آلودہ کر نے کی سازش کی جارہی ہے۔ٹرمپ اور پیوٹن کی ذاتی دوستی ،چائینہ کی خاموش پالیسی ایران اور سعودی عرب کی کشیدہ صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے یہ پالیسی اختیار کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی کس قدر خطرناک ہوسکتی؟
کیا امریکی اعلان سے عرب اسرائیل کشیدگی مزید بڑے گی؟؟کیا بیت المقدس کی خون آلودہ تاریخ پھر دہرائی جائے گی؟؟کیا مسلم ممالک آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کر کے دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کا بدلہ لیں گے؟ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس صو رت حال پہ کیا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ پاکستان اک سٹیک ہولڈر ہے اور کشمیر کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے اگر پاکستان اس معا ملہ میں سنجیدگی اور مثبت قدم نہ اٹھائے تو۔۔۔۔؟َاب وقت آگیا ہے کہ مسلمان حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور صیہونی اور امریکی منصوبے کو جان کر یکجا ہوجائیں اور طاغو تی سازشوں کے سامنے آہنی دیوار بن کے مقابلہ کریں اور شیطانِ وقت کو شکستِ فاش دے کر اپنے وجود و مسلمان ہو نے کا ثبوت دیں وگرنہ۔۔
تا ریخ کی گھڑیوں نے وہ دور بھی دیکھا ہے۔۔۔!
لمحوں نے خطا کی تھی،صدیوں نے سزا پائی۔۔۔!!!
[email protected]

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc