سانحہ 16 دسمبر 2014۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

جب بھی کسی سانحے کے بارے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو دل کو ٹھیس پہنچتی ہے اور قلم چلنے سےمنع کر لیتا ہے وہ تو میری ضمیر کی جیت شاید مجھے ہمت دلاتا ہے کہ میں بھی قلم کی نوک کو انسانیت سوز واقعات کی تحریروں کے لئیے وقف کر دوں.کیا خبر کھبی کوئی ظالم شخص میرے لکھے ہوئے تحریر کو پڑھ کر ایمان لے آئے.میں آج جس سانحے کی ذکر کرنے جارہا ہوں اس کاذکر ہر درد انسانیت رکھنے والوں کے لئیے تکلیف کا باعث ہے.چونکہ اس دن تاریخ میں پہلی بار ان کے جنازے دیکھے ہے جن کو جنازوں کی خوبصورتی کے لئے یعنی جنازے کی بخشش کا سامان بھی کہا جائے تو عجیب نہیں.
پھول دیکھے ہے جنازوں پر اکثر شوکت
آج میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے
16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کیا اس حملے کے نتیجے میں پھول سے بھی نرم 144 بچوں کے جنازے عظیم مرتبت رکھنے والی ماوّں نے اٹھائی.اس دن وقت کے یزیدوں اور فرعونوں نے ثابت کیا کہ ہم علی اصغرعلیہ سلام کو پانی دے گا نہ موسی علیہ سلام کو اس دنیا میں آنے دے گا.آج بھی وقت کے یزید اور اس کے حواری آگ کا کھیل کھلیتے ہوئے بچوں اور خواتین کی عزت کا خیال نہیں رکھتے ہیں .آرمی پبلک اسکول کے سانحے نے پوری انسانیت کو ہلا کے رکھ دیا کتنے ماوّں کے گود اجاڑ دئے گئے.کس طرح ان ننھے جسموں کو پامال کیے گئے.اس سانحے نے پوری قوم کے دل افسردہ کیئے ہوئے ہیں .آج تین سال ہونے کو جا ریے ہیں لیکن ان کی بہادری کی یہ داستانیں آج ہر دل میں امر ہو چکے ہے.اگر کسی کو اس معمولے سے کچھ سبق حاصل نہیں ہوئے ہے تو وہ ہمارے حکمران اور سیاست دان ہے آج بھی تعلیمی اداروں میں وہی فغاں وآہ زاری سننے کو ملتی ہے جو 16 دسمبر کو ملی تھی.کھبی باچا خان یونیورسٹی میں تو کھبی مردان یونیورسٹی میں مشال خان کو مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں سزائے موت.کوئٹہ و پاراچنار کی وادیاں تو بم دھمکائے کے لئیے ہی سجائے ہوئے ہے.ماتم کے جلوس محفوظ ہے نہ میلاد کے محفل’گرجا گھر ہو یا مندر’پارک ہو یا گزر گاہیں ہر جگہہ دہشت گردوں کا راج ہے.ہماری حکومت سو رہی ہے.وہ آج بھی مذمت کے لئیے سیاست کے لئیے دوسرے سانحے کی انتظار میں ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح حکومت اور سیاست کو بچا سکے..آج بھی وہ دہشت گردوں کے لئیے نرم گوششہ رکھنے والوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہا ہے.آج بھی ان تمام سانحات میں شہادت پانے والوں کے کسی بھی قاتل کو پکڑا نہیں گئے ہیں .سانحہ16 دسمبر کے ننھے خون ہم سے تقاضہ کر رہے ہے کہ اب تک میرے قاتل کو کیوں نہیں پکڑا .آج بھی کیوں میرے عرض وطن میں میرے قاتل کا راج ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc