سی پیک اور گلگت بلتستان۔ تحریر:انجینئر شبیر حسین

سی پیک دراصل پاکستان اور چین کے درمیان ایک ایسا منصوبہ ہے جو دراصل دنیا تک چین کی مصنوعات کی رسائی کی آسانی کیلئے بنایا جا رہاہے ۔ اس وقت چین کے وسط سے یورپ تک چینی مصنوعات کی رسائی کیلئے 19132 میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں سنٹرل چائینہ سے شنگھائی پورٹ تک زمینی راستہ 2625 میل اور شنگائی پورٹ سے یورپ تک بحری فاصلہ 16560 میل ہے۔ جس میں تقریبا 50 میل لگتے ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہ داری مکمل ہونے کیبعد یہ فاصلہ تقریبا صرف 2295 میل رہ جائیگا ۔ جس میں زمینی فاصلہ 1750 میل اور سمندری فاصلہ صرف 545 میل رہ جائیگا۔ جسے طے کرنے کیلئے صرف 17 دن لگیں گے۔ اس طرح سی پیک کی تکمیل کے بعد چائینیز مصنوعات کی عالمی منڈی تک رسائی کیلئے درکار اخراجات بھی ایک تہائی رہ جائیگا ۔ اس طرح چین کو اربوں روپیۓ صرف اور صرف ٹرانسپورٹیشن کی مد میں بچیں گے۔ اور مصنوعات کی عالمی منڈی تک سستے داموں پہنچنے سے ان کی کھپت میں اضافہ اس کے علاوہ ہے۔اس کے علاوہ چین اسی راستے مڈل ایسٹ سے اربون ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ کرے گا جو پہلے سے صرف ایک تہائی لاگت اور وقت میں ممکن ہو گا ۔
پاکستان کو سی پیک سے پانامہ اور سوئس کینال کی طرح ٹرانزٹ فیس حاصل ہو گی ۔ اس کے علاوہ چین پیداواری لاگت اور اجرتوں میں اضافے کی بنا پر اپنی صنعتیں جس میں زیادہ لیبر درکار ہے کو چین سےباہر منتقل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سی پیک کی ترقی کے بعد یہ صنعتیں پاکستان ک سپیشل اکنامک زونز میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔جس سے پاکستان میں بے شمار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ 42 ارب ڈالر کا یہ پروجیکٹ جو بعد ازاں پاکستان کے چاروں صوبائی وزراء اعلی کی طرف سےکچھ اضافی پراجیکٹس کی پروپوزل پر 56 ارب تک پہنچ گیا سے گلگت بلتستان کو ایک روپیہ کا فائدہ نہیں ہوا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ 2018 کی پہلی سہ ماہی تک پاکستان میں سی پیک کے تحت قائم کردہ دس ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو گا جس سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گا۔
اقتصادی راہ داری میں بھارتی مداخلت کے نتیجے میں امکان ہے کہ بھارت کو امرتسر سے حسن ابدال کے زریعے افغانستان تک تجارت کرنے کا موقع دیا جاۓ گا اور خود چینی مصنوعات لانے والے کنٹینرز کی بھارت تک رسائی ممکن بنائی جائیگی۔ کیونکہ اس وقت بھارت اور چین سمندری راستے کے زریعے پانچ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طےکرکے سو ارب ڈالر سے زیادہ کا بزنس کر رہے ہیں اور اب یہ راستہ کٹ کر 800 کلومیتر رہ جائیگا ۔ ایسے میں امکان ہے کہ بھارت بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوۓ گا ۔ایران ترکی بھی اس پروجیکٹ کا حصہ بننے کیلئے پہلے ہی پر تول رہے ہیں ۔مگر آدھی دنیا کے مفاد سے وابستہ اس پروجیکٹ کے گیٹ وے گلگت بلتستان کو نہ اب تک اس سے مستفید ہونے کا موقع ملا ہے نہ اس کے کوئی امکانات نظر آ رہے ہیں۔سی پیک کےمد میں ملنے والی 56 ارب ڈالر کی رقم تو پاکستان کے دیگر چار صوبوں کی نذر ہو گیا جس کے شارٹ ٹرم منصوبہ جات کے فوائد بھی جیسے میں نے اوپر بتایا ملنا شروع ہو جائیں گے۔ مگر ان تمام تر امکانات کے باوجود کہ گلگت بلتستان کوماحولیاتی آلودگی کے سبب گلیشرز پگھلنے سے ناقابل تلاقی نقصان پہنچے گا کوئی حصہ دینے کا نہیں سوچا جارہا بلکہ سوست ڈرائی پورٹ کو ہزارہ منتقل کر کے ہزاروں لوگوں کا روزگار چھیننے کا بھی مکمل بندوبست کیا جارہا ہے۔ ممکنہ اکنامک زونز کے حوالے سے بھی حکومت بلکل خاموش نظر آ رہی ہے۔ امریکہ بھارت جیسے ملکوں کی طرف سے پروجیکٹ کو متنازعہ کرنے کی کوششوں کے مقابلے میں علاقے کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے دنیا کو خاموش کرانے کی بجاۓسی پیک سے جڑے تمام تر معاملات میں سے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو باہر پھینک دینا ہی حل سمجھا گیا ہے۔ ڈرائی پورٹ کے ہزار منتقلی سے گلگت بلتستان میں چائیز مصنوعات کو پہلے پاکستان کی نسبت سستی ملا کرتی تھی اب مہنگی ہو جاۓ گی ۔ تو دیکھا جاۓ تو اب تک سی پیک سے گلگت بلتستان کو صرف اور صرف نقصان ہوتے ہوۓ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے میں ہمارے حکمرانوں،اہل فکر ،اور کاروباری حضرات کو سوچنا پڑے گا کہ ہم کیسے اس میگا پروجیکٹ سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ شگر کے راستے ممکنہ روٹ کے زریعے چائینہ کو سکردو ائیرپورٹ کے زریعے دنیا سے ملا کر ، اس روٹ کو گارگل سکردو روڈ کے زریعے انڈیا سے ملا کر بھی اس پروجیکٹ سے براہ راست گلگت بلتستان کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc