انسانی حقوق اور گلگت بلتستان تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو سوچا اس اہم دن کے موقع پر میں بھی اپنے قلم کو ایک دفعہ پھر زحمت دوں.ویسے آپس کی بات ہے مجھ جیسے کالم نگاروں کے لئیے اولاّ تو لکھنے کے لئیے کوئی خاص موضوع نہیں ملتا ہے اگر ملا تو بھی لکھنا بہت محال ہو جاتا ہے چونکہ معلومات اور تعلیم کے حوالے سے پسماندگی ہمارے اندر کوٹ کوٹ کے بری ہوئی ہے .پسماندگی سے یاد آیا ہماری تعلیمی پسماندگی کیوں نہ ہو جناب!! راقم کا تعلق ہی پاکستان کے پسماندہ اور اسپیشل صوبہ گلگت بلتستان سے ہے.اسپیشل کا معنی سمجھتے ہو نگے.نہیں سمجھے تو میں سمجھا دیتا ہوں سوشل ورکر ہوں جناب اسپیشل کا معنی یاد نہ ہو کیا بات کرتے ہو.اسپیشل کا معنی معاشرے کے ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو ذہنی’ جسمانی اور دوسرے اعضاء سے محروم ہو.یعنی معذور افراد .میں یہاں معذور افراد کی کردار کشی نہیں کر رہا ہوں جناب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آج کل مولویوں کی کفر کی فتوح کی طرح انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار کے پاس بھی ایک لائسنس ہے جو کسی کو بھی ہائی جیک کر سکتا ہے جس طرح شریمن عبید چنائی نے ڈاکٹر کے ساتھ کی ہے.اوہ جناب میں کہاں جا رہا ہوں ڈائریکٹ گلگت بلتستان سے شریمن عبید چنائی جو نہ جانے کہاں رہیتی ہے معلوم بھی نہیں .جانے دیجے اپنی موضوع پر دوبارہ آجاتا ہے کہیں مجھے موضوع سمیٹنے میں دشواری نہ ہو جائے.جی ہاں اقوام عالم کی تنظیم اقوام متحدہ نے پیرس کے مقام پر 30 دفعات پر مشتمل ایک عالمی چارٹر 1948 میں پیش کیا تھا جس کے تحت انسان کی شخصی’ سماجی اور معاشی حقوق کو زیر بحث لایا گیا تھا جس میں ہمارے ملک عزیز پاکستان بھی شامل تھا اور اس مسودے پر دستخط کر کے خود کو انسانی حقوق کے حوالے سے محفوظ کیا تھا.لیکن ہمارے ملک عزیز میں اس کی روایت بلکل الٹ پڑ گئی چونکہ عرض شمال میں واقع باسی پچھلے 70 سالوں سے ہر قسم کے بنیادی حقوق سے محروم ہے.اگر اس کے خلاف لب کشائی کر لے تو اس کو غدار کہہ کر قید بامشقت کی بہترین سزائیں سنائی جاتی ہے.ان کو ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے.اسی لیئے تو عجیب عجیب قوانین لاگو ہو جاتا ہے اس سر زمین بے آئین میں.شکوہ تو خود سے بھی ہے عوام سے بھی’ حکومت سے بھی لیکن دنیا بھر کے ان انسانی حقوق کے علمبردار کہاں ہے جو لندن کے جانورں پر ڈھا جانے والی ستم تو دیکھ اور دن سکتے ہیں لیکن گلگت بلتستان میں قید سیاسی اسیروں کی حالات سے ناواقف ہے .ان اسیروں کا جرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے سرزمین بے آئین میں ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائی ہے.ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ انہیں بھی آئین دی جائے.ان کا جرم صرف اتنا ہی ہے انہوں نے وقت کے طاغوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا ہے.اس وقت گلگت بلتستان کے جیلوں میں اطلاعات کے مطابق 19 سے ذیادہ قیدی نہ کردہ گہناہوں کی سزا بھگت رہا ہے.میری انسانی حقوق کے تنظیموں سے بس اتنی سی گزراش ہے کہ آپ لوگ حقوق انسانی کے لئیے بات کرتے وقت رنگ’نسل ‘زبان ‘علاقے ‘مذہب کو مدنظر نہ رکھا کریں کیونکہ اسی وجہ سے آج بھی ہمارا خطہ آپ لوگوں کے نظروں سے اوجل ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc