یونیورسٹی آف بلتستان کے حوالے سے افسوسناک خبر ، سازش ہے یا لاپروائی معاملہ تحقیق طلب ہے۔

سکردو( شبیر حسین) اطلاعات کے مطابق کے آئی یو کیمپس کا نام یونیورسٹی آف بلتستان میں بدل گئے لیکن سہولیات کے حوالے سے کچھ نہیں بدلے۔ حال ہی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے صرف تین ڈیپارٹمنٹس میں داخلے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ایچ ای سی قوانین کے مطابق یونیورسٹی اپنی صوابدید پر کم از کم اٹھارہ ڈیپارٹمنٹس میں داخلہ دے سکتی ہے، مذکورہ تین ڈیپارٹمنٹس میں بھی صرف اور صرف پچاس طلباء و طالبات کو داخلہ دیا جائیگا جبکہ ذرائع کے مطابق ہر دیپارٹمنٹ میں کم از کم 200 طلباؤ طالبات کے داخلے کیلئے درخواستیں دی ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انتظامیہ کا اس حوالے سے کلاس رومز کی کمی کا بہانہ بنا رہی ہے حالانکہ وزیر تعلیم ابراہم ثنائی ڈگری کالج سکردو کی عمارت فراہم کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایچ ای سی کی طرف سے یونیورسٹی کے دوروں کے دوران ہمیشہ طلباء کی کم تعداد یونیورسٹی کی ترقی اور ڈیپارٹمنٹس اضافے کے آڑے آتی ہیں، جبکہ یونیورستی انتطامیہ طلباء کو جان بوجھ کر واپس بھیج رہی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیمپس سے یونیورستی بننے کے بعد بھی اگر اس کا فائدہ بلتستان کے طلبہ کو نہیں ملتا تو پھر اس یونیورسٹی کے بننے کا بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ وطالبات کا کیا فائدہ؟ ۔ عوام نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ابتدائی طور پر تمام اٹھارہ ڈیپارٹمنٹس میں ممکن نہیں تو کم از کم آٹھ دس ڈیپارٹمنٹس میں ہی داخلے دئیے جائیں اور کسی بھی طلبہ کو داخلے سے محروم نہیں رکھا جائے ورنہ بلتستان کے عوام یہ سمجھنے پہ مجبور ہوں گے کہ انتظامیہ بلتستان یونیورسٹی جان بوجھ کر بلتستان کے طلبہ و طالبات کو تعلیم کے حصول سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc