پریس فاؤنڈیشن آذاد جموں کشمیر کا شاندار اقدام، اخبارات کو اشتہارات کی ادائیگی کارکن صحافیوں کی تنخواہوں سے مشروط کردیا۔ دوسری طرف حکومت گلگت بلتستان کو کارکن صحافیوں کے مسائل کی کوئی فکر نہیں۔

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) حکومت آذاد جموں کشمیر کے پریس فاونڈیشن نے عدالت کے حکم پر تمام میڈیا ہاوسز کیلئے اشتہارات کی ادائیگی کو کارکن صحافیوں کی تنخواہوں سے مشروط کر دیا۔ اس اہم اقدام سے یقیناًمالکان کی اجارہ داری ختم ہوگی اور آذاد کشمیر میں آذاد میڈیا کو فروغ کے ساتھ ساتھ صحافتی اقدار کے حوالے سے اچھے نتایج سامنے آئیں گے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں اخبار مالکان کی طرف کارکن صحافیوں کے حوالے کوئی پرسان حال نہیں گلگت بلتستان میں سرکاری اشتہارات کی مد میں سالانہ کرڑوڑں روپے اخبار مالکان وصول کرتے ہیں لیکن کارکن صحافیوں پر ایک لاکھ بھی خرچہ کرنے کیلئے مالکان تیار نظر نہیں آتا۔ حکومت گلگت بلتستان کو بھی چاہئے کہ کارکن صحافیوں کے مالی اور معاشی حقوق پر اخبار مالکان کی جانب سے ڈاکہ ڈال کر پاکستان کے مختلف شہروں میں بنگلوز بنا رہے ہیں اس حوالے سے تحقیقات کریں اور محکمہ اطلاعات میں کمیشن کے عوض اشتہارات دینے والے افراد کے خلاف کاروائی کریں۔ اسلام آباد میں موجود گلگت بلتستان کے کچھ سنئیر صحافیوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مقامی اخبارات میں مالکان کی پالیسی کے مطابق خبروں کی اشاعت سے بہت سے اہم اسٹوری شائع ہونے سے رہ جاتی ہے اس وجہ سے عوام گلگت بلتستان کے صحافیوں کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانا بناتے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو چاہئے کہ مقامی اخبارات میں پاکستان کے دیگر اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور خبروں کی اشاعت پر مکمل پابندی لگائیں اس سے گلگت بلتستان کے صحافتی اقدار کو شدید نقصان پونچ رہا ہے اور عوام خاص طور پر یوتھ اور ڈوان ایریا سے آئے ہونے اہم سرکاری افیسران کے نزدیک اخبارات کے حوالے سے مسلسل ایک غلط میسج جارہا ہے لیکن مالکان نے کبھی صحافتی اقدار مدنظر رکھ کر اخبارات کی اشاعت کیلئے کوشش نہیں کرتے اس وجہ سے گلگت بلتستان میں اخبار ایک کارباری صنعت بن چُکی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc