ضلع کھرمنگ میں دیہی سطح پر قصائی کرنا جرم بن گیا، قانون کی نفاذ کے نام پر انتظامیہ کی من مانیاں عروج پر۔

کھرمنگ( نامہ نگار خصوصی) ضلع کھرمنگ آٹھ یونین کونسلز پر مشتمل ہے لیکن ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے ابھی تک جگہ مختص نہ ہونے کی وجہ سے جہاں کھرمنگ کے عوام سرکاری دفاتر میں کام کیلئے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں وہیں کھرمنگ انتظامیہ کی جانب سے نت نئے قوانین نے عوام کو پریشان کیا ہوا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے آٹھ یونین کونسل پر مشتمل ضلع کیلئے صرف ایک قصائی کوسرکاری سطح پر لائسنس جاری کیا ہے وہ بھی ضلعی کھرمنگ کے ابتدائی حدود یونین کونسل مہدی آباد میں واقع ہیں۔ ساتھ ہی انتظامیہ کی جانب سے کسی دوسرے مقام پر قصائی کرنا غیر قانونی قراد دے دیا ہے جس کے سبب کھرمنگ کے عوام کو ایک کلو گوشت کیلئے 50سے 60کلومیٹر سفر کرکے کم ازکم 2000روپے تک میں خصوصی طور پر ٹیکسی بُک کرکے مہدی آبادجانا پڑتا ہے اور وہاں بھی اکثر اوقات قصائی کا دوکان بند رہتا ہے۔ گزشتہ ایک مہینے کے اندر پولیس نے قصائی کرنے کے جرم میں کئی افراد کو گرفتار کرکے بھاری جرمانہ عائد کیا ہے جس پر عوام میں شدید غم غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کھرمنگ کے عوام کیلئے اس قسم کے قوانین ایک عذاب سے کم نہیں کیونکہ پہلی بات کھرمنگ میں مواصلات کی کمی ہے دوسرا ایک کلو گوشت کیلئے پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کثیر رقم خرچ کرکے مہدی آباد جانا غریب عوام کی معیشت پر ایک بھاری بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ وقت کا ضیاع بھی ہے۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ قصائی کو جرم قرار دینے کے بجائے قصائی کیلئے سرکاری نرخ نامے پر گوشت کی فروخت کو یقینی بنانے کیلئے ایک میکنزیم تیار کریں اور  نرخ نامے سے بڑھ کر گوشت فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے تو اُنہیں واقعی میں قرار سزا دیں ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc