گھر کے چراغ بجھا کر مسجد کیلئے دیا جلائی۔ تحریر: اعجاز حسین بلتی

دھرتی ماں گلگت بلتستان میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں کبھی گلگت بلتستان والے یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہوتے ہیں تو کبھی عراق میں داعش کے دہشت گردی کے خلاف احتجاج کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی برما میں ہونے والی مظالم کے خلاف ریلیاں نکال رہے ہوتے ہیں تو کبھی فلسطین میں ہونے والے اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ نعرہ لگا کر خود کو ایک زندہ قوم ثابت کرنے کی ناکام کاوشیں کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ فلسطین ، کشمیر یا برما نہ ہمارا ہے نہ ہمارے باپ کا ہے خدارا مولوی صاحبان ہمیشہ کی طرح میری قوم کو پھر سے کوئی ٹرک کی بتی کے پیچھے نا لگائے دھرتی ماں گلگت بلتستان میں قابل احترام علماء صاحبان اکثر کبھی کشمیری بھائیوں کے لیے انڈیا کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہوتے ہیں تو کبھی امریکہ و اسرائیل کے خلاف لب کشائی کر رہے ہوتے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے یا ہم جنمی علی ہے یا ہم نانگنو مے چیدے مسجد لہ اود تانگنیں یود ۔ (اپنے گھر کا دیا بجھا کر مسجد میں شمع جان جلانا) اگر خود کو اتنا زندہ قوم ثابت کرنا ہے تو ستر سالوں سے دھرتی ماں گلگت بلتستان کو بے آئین رکھنے والوں کے خلاف لب کشائی کیوں نہیں کرتے ؟دھرتی ماں کا سینہ چیر کر جس سی پیک کے لیے راستہ بنایا جا رہا ہے اور ہمیں زرہ برابر بھی حصہ نہیں دی جا رہی سی پیک میں دھرتی ماں کو تیسرے فریق منوانے کے لیے یا سی پیک میں حصہ لینے کے لیے تحریک کیوں نہیں چلاتے ؟؟؟ستر سالوں سے کے ٹو ، ننگا پربت ، گشہ بروم سمیت ہزاروں چوٹیاں ، دیوسائی اور معدنیات ، دریا سندھ جو پورے پاکستان کو سراب کر رہے ہیں ان سب کی ہمیں کوئی ریالٹی نہیں دی جا رہی مگر ان سارے چیزوں کی ریالٹی کر حصول کے لیے کوئی تحریک چلانے کو تیار نہیں یہاں تک کہ ٹورزم کی مد میں حکومت پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالرز غیر قانونی طریقے سے بٹورے جا رہے ہیں مگر اس کے حصول کے لیے بھی ابھی تک کوئی تحریک عمل میں آتے نہیں دیکھا گیا۔تم کیا فلسطین میں ہونے والی ناجائز قبضے کے خلاف لب کشائی کرتے ہو تمہارے دھرتی ماں میں خالصہ سرکار کے نام سے جو غیرقانونی ناجائز قبضے جو ماضی میں ہوتے دیکھا اور ہو رہا ہیں ان پہ تو ایسا لگتا ہیں کہ سب کو سانپ سونگھ گیا ہوکہیں خالصہ سرکار کے نام پہ قبریں مسمار ہوئے تو کہیں لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دی گئی لیکن ایک دو علماء کے علاوہ کسی مولوی کو نہ کوئی صاحبان کو اس پہ لب کشائی کرنا نصیب ہوا نہ کبھی اس قبضے کے خلاف جمعے کے خطبے میں مذمت کرتے سنتے گیا ۔ ریلیاں نکالنا ہے تو گلگت بلتستان میں لاگو اے ٹی اے فورتھ شیڈول جیسے کالے قوانین کے خلاف ریلیاں کیوں نہیں نکالتے تحریک چلانا ہے تو گلگت بلتستان کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جیل بھرو تحریک کیوں نہیں چلاتے ؟؟؟تحریک چلانا ہے تو اپنے حقوق کے حصول کے لیے چلاو لب کشائی کرنا ہے اپنے دھرتی پہ ہوتے ناجائز قبضے کے خلاف چلاو کرگل سکردو روڈ کو کھولنے کے لیے تحریک کیوں نہیں چلاتے تاکہ ہمارے بچھڑے ہوئے کوئی ماں بیٹے سے تو کوئی بہن بھائی سے مل سکے ۔ نہیں ان سب کے حصول حقوق کے لیے نہ کوئی تحریک چلتی ہیں اور نہ کوئی علماء صاحبان ، یا کوئی نام نہاد لیڈرز کو لبکشائی کرنا نصیب ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان کے کرپٹ بدعنوان عوام دشمن یزیدی خصلت رکھنے والے سامراج حکمرانوں اور ان کی عوام کش پالیسیوں کے خلاف بات کرنے سے علمائے حضرات کی شلوار گیلی ھوجاتی ھے اور مملکت پاکستان سے غداری سمجھی جاتی ہیں اور عوام بھی مشکلات سے ڈر جاتے ہیں ارے تم اپنے دھرتی میں جو غیر قانونی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈر جاتے ہو اور اپنے حقوق کے حصول کے لیےے آواز نہیں اٹھا سکتے ہو۔پہلے خود اندھیرے سے نکلنے کی کوشش کرو پھر زمانے سے اندھیرے مٹانے نکلو پہلے اپنے گھر کو روشن کرو نہ کہ مسجد کو ۔
خدا ہمیں اپنی گھر کو پہلے روشن کرنے اور پھر بعد میں مسجد کو روشن کرنے کی توفیق عنایت فرما ۔ آمین

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc