تحقیق اور تجزیہ۔ تحریر : لیاقت انقلابی

ستر سالوں سے پاکستان کے جاگیردار اور سرمایہ دار سیاستدان پاکستان کے چند فوجی جرنیل ، پاکستان کی عدلیہ، پولیس، نوکر شاھی اور ریاست کے باقی رشوت خور ادارے پاکستان کے پنجر کو ستر سالوں سے بے دردی سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، ان اداروں کے علاوہ اب چند کروڑ پتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے مالکان بھی اس لوٹ کھسوٹ کے نظام میں برابر کے شریک ہو چکے ہیں، یہی غا صب طبقات اپنے مفادات کی خاطر موجودہ لوٹ کھسوٹ کے بدبودار نظام کے محافظ ہو کر اپنی دولت کے انباروں کو برہا کر اپنی تجوریان بھر رہے ہیں، ستر سالوں سے یہی لوگ یا ان کے لاڈلے بچے ذرداری لیگ، نواز لیگ، قاف لیگ، فضل الرحمان لیگ یا اسوند یار ولی خان لیگ کی چھتری کے نیچے اپنی اپنی دولت کے بل بوتے پر جائز یا ناجائز طریقہ سے منتخب ہو کر پاکستان کی اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں، اب تو ا نہی بدبودار لیگوں کی دوڑ میں کہیں مذہبی تنظیمیں بھی شامل ہو چکی ہیں، یہ طبقات اپنی اولادیں اور اپنے سرمایہ کا بڑا حصہ باہر کے ملکوں میں منتقل کر چکے ہیں اوردھڑا دھڑ کر رہے ہيں،پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے گن گانے والے اسوند یار خان، نواز شریف اور ذرداری صاحب پاکستان سے لوٹے ہوۓ سرمایہ سے لندن ، دوبئی اور ملائیشیا کے علاوہ کئی ملکوں میں اپنی بڑی بڑی فیکٹریاں لگا چکے ہیں،اس لوٹ کھسوٹ میں خود شامل مفاد پرست سیاستدان کس طرح فوج میں موجود چند کرپٹ جرنیلوں، کرپٹ بیورو کریٹوں، کرپٹ ججوں اورکرپٹ نوکر شاہی کو کرپشن سے روک سکتے ہیں،جہان ایک طوف پاکستان میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، دوسری طرف انصاف تعلیم،علاج،صحت، بجلی ،پانی،نکاس ،روزگار، اور تمام بنیادی ضروریات کی محرومی کی صورت میں محنت کش طبقات کے علاوہ پورا سماج مر رہا ہے ، ہر روز ہزاروں بچے بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں، ہر سال مولانا فضل الرحمان کےاسلامی جمہوریہ پاکستان میں 27 ہزار بچے گندا پانی پینے کی وجہ سے مر جاتے ہیں،محنت کش طبقہ کی 2300 خواتین ہر سال زچگی کے دوران دم توڑ دیتی ہیں،محنت کش عوام غربت ،افلاس،بے بسی اور لاچارگی اور موت سے ذیادہ اذیت ناک ذندگی بسر کر رہے ہیں، محنت کش بے بس عوام ان غاصب طبقات کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے ذیادہ حثیت نہیں رکھتے، کیونکہ مقروض پاکستان کی دولت، محکوم پاکستان کی توپیں، اور مظلوم پاکستان کا کالا قانون ان غاصب طبقات کے ہاتھوں میں ہے، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف ایر کنڈیشنڈ شاندار سرکاری عمارات میں بیٹھ کر اپنے مفاد کےبچاو کی خاطر سیاسی باذی گر اور فوج کے جرنیل پاکستان کے مفاد کی چکنی چوپڑی کی باتیں کر رہے ہیں، اور دوسری طرف محنت کش عوام مہنگائی ،غربت، افلاس،بے روزگاری،بے انصافی ،مزہبی جنونیت، بد عنوانی اور ریاستی بربریت کی آگ میں جل رہے ہیں، اب ریاستی بے حسی اور بربریت اب اتنی بڑھ جگی ہے کہ پورے کا پورا سماج تیزی سے تباہی کی اندھی کھائی میں غرق ہونے جا رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کےموجودہ حکومتی اورغاصب طبقات کا مفاد موجودہ ظالمانہ نظام ہی ميں ہے ، لیکن بھوک ،افلاس اور محرومی کے مارے ہوۓ محنت کشوں کو معلوم ہو حکا ہے کہ ان کا پاکستان آج بھی چند غاصبوں کے قبضہ میں ہے، ، اس وقت پارلیمبنٹ میں جمہوریت کی جھوٹی بین بجائی جا رہی ہے ، اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوۓ مفاد پرست طبقات سپیلوں، سانپوں اور ناگوں کی طرح اس بین کے راگ پرجھوم جھوم کر ناچ رھے ھیں، کتنی شرم ناک بات ھے کہ یہی غاصب طبقات اسمبلی کے ایر کنڈیشنڈ ہالوں اور عدلیہ کے ایر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر دھوپ اور گرمی ميں جھلسنے والے لاکھوں محروم پاکستانی بچوں، بہنوں، ما ئوں، اور نوجوانوں کو بتا رھے ہیں کہ انہيں اپنی ایرکنڈیشنڈ سرکاری گاڑیوں میں اپنے ایر کنڈیشنڈ دفتروں میں جانے کی تکلیف ھو رھی ھے،اور ان کی ایر کنڈیشنڈ اسمبلی لاجوں ان کی نیند میں خلل پڑ رہا ہے ، اور ان کے صاف ستھرے اسلام آباد میں غربت کا تعفن نہ پھیلایا جاۓ ، معاف کرنا، ان سب بے حس مفات پرست طبقات کو بتانا پڑے گا کہ تم سب ان محنت کشوں کی خون پسینے کی کمائی پر عیاشی کی ذندگی بسر کر رہے ہو اور اگر قائد اعظم کا پاکستان یہی پاکستان ہے تو یقین کریں کہ یہ غا صب طبقات کا بے انصاف پاکستان اور اسکا ظالمانہ لوٹ کھسوٹ کا نظام حضرت علی کے قول کے مطابق ذیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc