تعلیم اور معاشرہ۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

معاشرتی فلاح کا ضامن تعلیم اور صرف تعلیم ہی سے ممکن ہے. شرط ہےتعلیم ایسی ہو جو بزریعہ تربیت یافتہ معلم کے زریعے حاصل کی ہو.معلم سے مراد صرف اسکول • مدرسہ یا کسی تعلیمی ادارے کے استاد یا مدرس نیہں ہے بلکہ معاشرے کا ہر وہ کردار ہے جو انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں…..جن میں والدین خاص کر مائیں. ہمسر گروہ یعنی دوست احباب اور دوسرے رسمی و غیر رسمی ادارے و افراد کا کردار بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں….آیا ان تمام کرداروں کے علاوہ کسی اور کردار کا کردار اہمیت رکھتا ہے.تو یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ انسانوں کی تربیت کا سب سے اہم تعلق وہاں کے کلچر یعنی ثقافت.لوک ریت. رسم و رواج کے مطابق ہوتے ہے۔مثال کے طور پر بعض علاقے کے لوگ تیز .چالاک اور بعض علاقے کے لوگ سست اور سادہ.بعض علاقے کے لوگ دولت و نمود و نماش کے شوقین تو بعض علاقے کے لوگوں کو ان چیزوں سے خاص دلچسپی نہیں ہوتی….اسی لئے جہاں تک دیکھنے میں آتی ہے کہ انسانوں کی تربیت کا یہ ادارہ بغیر انسانی شعور کے انسانی تربیت کا ایک اہم ادارے کے طور پر کام کر رہا ہوتا ہے…اب سوال یہ ہے کہ اس ادارے کو بہتر کیسے کرئے جس سے انسان کو غیر شعوری طور تربیت کا زیادہ حصہ حاصل ہوتا ہے.وہ بھی بغیر کسی معلم کے.بغیر کسی مدرس کے یا یوں کہے کہ بغیر کسی مشکلات و پریشانی کے.اب سوال یہ ہے کہ اس ادارے کو بہتر کیسے کرئیں.یہ ایک اہم نکتہ اور مشکل کام ہے.اس کے لئے آپ کو معلم .مدرس .کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر طبقے کا دلی تعاون ضروری ہے.یقین جانے بہت مشکل کام ہے کہ معاشرے کے مختلف کرداروں کو ساتھ لے کے چلے .لیکن اس کو کیسے لے کے چلنے ہے یہ آسان اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ شناس افراد جو مختلف سوچ کے حامل اور شعبے رکھتے ہو وہ معاشرتی بہتری کے لئے کام کرنے کا عزم رکھتے ہو اور معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے کا عزم کرئے…..
تو آئے اس ادارے کو فعال کرتے ہیں ہے جو آپ کو آپ کی معاشرے کی تربیت کے لاشعوری و رسمی ادارہ ہے…. اس ادارے کی مضبوطی معاشرے کے ہر افراد کی فلاح کا باعث ہے.لہذا معاشرہ شناس افراد مل جل کر اس کام کی بہتری کے لئے سوچے ….یقیں جانے اس سے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc