کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ

پاکستان کی سیاسی ماحول میں تبدیلی کے فوراً بعد ہی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت بھی ایک دم بڑھ چکا ہے ، ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اسلام آباد میں سیاسی عروج و زوال کا اثر گلگت بلتستان کی سیاست پر ہر دورِ حکومت میں ہوتا رہتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں برامد شدہ غیر مقامی جماعتوں کو سیاسی طور پر مقامی جماعتوں سے زیادہ تقویت حاصل ہے اور ماضی قریب سے لیکر اب تک اسلام آباد میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے وہی گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں کلین سویپ کرکے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، یوں تو گلگت بلتستان کی نام نہاد حکومت کی اسلام آباد سطح پر کوئی خاص اہمیت تو نہیں ہے تاہم مقامی سادہ لوح عوام کی ذہنوں پر غیر مقامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مقامی وزیر اعلیٰ، وزراء اور ممبرانِ اسمبلی ضرور اثر انداز ہوتے ہیں اور عوام کے سامنے اپنے آپ کو بااختیار ضرور کہتے ہیں تاہم اسی قانون ساز اسمبلی سے تعلق رکھنے والے ممبر کے حالیہ بیان ”جی بی اسمبلی کی کوئی حیثیت نہیں، ایک ممبر سے تحصیلدار کے اختیارات زیادہ ہے“ سے اسمبلی اور اس کے ممبران کی حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے فوراً بعد گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے اپنے پریس کانفرنس میں اپنے محسن نواز شریف کے حق جذباتی انداز میں ایسے کلمات کہہ ڈالے کہ جس کا اثر نہ صرف گلگت بلتستان تک ہوا بلکہ پاکستان میں بھی ان کی آواز گونج اٹھی اور یقیناً پہلی مرتبہ پاکستان کے ایک لیڈنگ اخبار میں اس بیان کو سپر لیڈ بنا کر شائع کیا گیا لیکن بد قسمتی سے یہ بیان بھی تردید کی نذر ہوگیا جس کا افسوس گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو ضرور ہوا ہوگا۔
”نواز شیریف کی نااہلی بغاوت ہے“ اور ”سوچیں گے اب کس ملک سے الحاق کرنا ہے“ پر مبنی سپر لیڈ نے نہ صرف وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بلکہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کو بھی مشکل میں ڈال دیا۔ اس بیان پنڈی بوائے شیخ رشید نے ”کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ“ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ”ذلیل ، گھٹیا“ جیسے الفاظ سے بالترتیب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کی خاطر تواضع کی۔ ایسے الفاظ ایک طرف قابلِ مذمت بھی ہیں اور دوسری طرف انسان کو اپنے کئے کا احساس کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام اس وقت بے شمار مسائل کے شکار ہیں ، ستر سالوں سے دونوں خطوں کو وزرات امور کشمیر اور لینٹ آفسران کے ذریعے ہانکا جاتا رہا ہے، دونوں خطوں کو اسمبلیاں تو دی گئی لیکن بدقسمتی سے بے اختیار۔ گلگت بلتستان کے عوام تعلیمی، سیاسی، صحت، معاشی اور دیگر مسائل کے شکار ہیں، گلگت سے سکردو جانے والے ہزاروں مسافر روزانہ زندگی اور موت کے کشمکش میں گھر پہنچ جاتے ہیں اور برسوں سے موجودہ حکمرانوں نے سوائے جھوٹے وعدوں اور اعلانات کے گلگت سکردو روڈ بنانے کے لئےکوئی عملی اقدامات نہیں کرسکیں، پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کے عوام کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور عوام کو حقوق نہیں ملیں، وزیر اعلیٰ عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے یہ کہتے رہے کہ سی پیک Country to countryمنصوبہ ہے، دیامر کی حدود میں بننے والا دیامر بھاشاڈیم کا نام ”دیامر“ کے بجائے ”بھاشاڈیم“ رکھنے کا فیصلہ ہوا لیکن بدقسمتی سے نام نہاد گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور کٹھ پتلی حکومت اپنے عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے اسلام آباد اور اپنے آقاؤں کی شان میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں اگر وزیر اعلیٰ اپنے عوام کے حقوق کی تحفظ اور مسائل کے حل کے لئے اس قدر پرجوش انداز میں پریس کانفرنس کرتے تو عوام ان کو اپنا ہیرو مانتے اور اس کے خلاف کسی پنجابی کے منہ سے ایسے الفاظ سننے سے پہلے ہی اس کو جوتا مارتے لیکن بدقسمتی سے ہماری مقامی سیاسی قیادت اپنے اپنے آقاؤں کی خوشنودی میں اس حد تک جاچکے ہیں کہ قومی غیرت کو بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے۔
میرا وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن سے سوال ہے کہ کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی صوبہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی نہیں ہے ؟ نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی اور جی بی کے عوام کی حیثیت پنڈی کے کسی گونگے کے برابر بھی نہیں کیونکہ وہ اپنے وزیراعظم کے لئے ووٹ دے سکتا ہے جبکہ آپ نہیں، اگر آپ ووٹ نہیں دے سکتے تو پاکستان کا وزیر اعظم آپ کا وزیر اعظم کیسے؟ اگر قانونی طور پر وہ آپ کا وزیر اعظم نہیں ہے تو اس کی حق میں آپ کے پریس کانفرنس کا کوئی اثر ہوگا؟
دوسر ی بات جس سپریم کورٹ کا آپ اور وزیر اعظم کشمیر نے ذکر کیا، کیا اس سپریم کورٹ میں آپ اور آپ کے عوام کی شنوائی ہوتی ہے؟ کیا اس سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کے عوام کو اپیل کا حق ہے اگر نہیں ہے تو اپنی قیمتی وقت ضائع کیوں ؟
جس اسمبلی کے آپ ممبر ہے اس سے متعدد دفعہ جی بی کو آئینی صوبہ بنانے کے لئے قراردادیں منظور ہوئی، کیا اس کا کوئی اثر ہوا؟ اگر پہلے سے منظور شدہ قراردادوں پر عملدرامد ممکن نہیں ہوسکا تو دوبارہ ایک نااہل وزیر اعظم کے حق میں قرارداد پاس کرنے کا مقصد؟
”سونے پہ سہاگہ“ والی بات یہ کہ وزیر اعلیٰ کے اپنے آقا نواز شریف کے حق میں پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنماؤں کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے خلاف توہینِ عدالت کی ریفرنس دائر کرنے کی خبریں بھی آرہی ہیں حیرت کی بات ہے اپنے آقا عمران خان کے ساتھی شیخ رشید کی طرف سے دی جانے والی بہترین مثال ”پدی کیا تو پدی کا شربہ کیا؟“ کے بعد بھی ان سادہ لوح لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی اور دیگرغیر مقامی پارٹیوں سے وابستہ سیاسی لوگوں کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اتنا ہی احترام ہے تو گلگت بلتستان کی سیاسی و آئینی حیثیت کے حوالے سے 1999کو سنائے گئے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ یا صوبہ کہنے سے گریز کرے ورنہ یہ بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلوگے تو پھسل جاؤگے

تحریر: شیرنادر شاہی

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc