لفظ “میں” ھم سب کی توجہ چاہتا ہے. قسط دوئم تحریر | حمایت خیال

لفظ ” میں ”  ھم سب کی توجہ چاہتا ہے.

قسط دوئم

تحریر | حمایت خیال

       آپ چاہیے مانیں یا نہ مانیں میں اس حقیقت کو تسلیم کرچکا ہوں کہ اگر انسان کسی بھی تحریک کا آغاز اپنے وجود اور اپنے گھر سے کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے کامرانی اور کامیابی سے روک نہیں سکتی. انقلاب کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ ھم چوک چوراہے پہ کھڑے ھوکر لفظ انقلاب کی تشریح کریں، تبدیلی کے عنوان پہ تقاریر کی جائے. انقلاب اور تحریک کے لئے سب سے مہم چیز خود کو عمل کے لئے تیار کرنا ہے. کسی دوسرے کا احتساب لینے سے قبل، اپنا اور اپنے نفس کا احتساب لازم ہے. یہ بھی دیکھنا لازم یے کہ، کہیں میرے قول و فعل میں تضاد تو نہیں. اگر ایسا ہے تو یقیناً میں اپنے آپ کو اندھیرے میں رکھتا ہوں ، جس شخص نے روشنی خود سے دیکھی نہیں کیسے دوسروں کی راہنمائی کر سکتا ہے. یہ دھوکہ اور خود فریبی ہے.

          فرض کریں. میں یونیورسٹی کا ایک طالبعلم. یونیورسٹی کیسے پہنچا. کن کن مرحلوں سے گزرا، کتنے لوگوں کی سفارش لئے کتنے آفیسروں کے دروازے کھٹکھٹائے. کتنی دفعہ قائداعظم کی تصویر (رشوت) دیکھانی پڑی.

         یونیورسٹی پہنچنے کے بعد میں ہر وقت یہی کوشش کرتا رہا کہ میرے اور میرے اساتذہ کے درمیان اچھے روابط قائم ہوں. اس مقصد کے لئے میں مذہب، مسلک، قومیت اور لسانیت کو بنیاد بنا کر ان سے ملتا رہا. جس سے نہ بن سکی بد سلوکی پہ اتر آیا. بدسلوکی کے بعد میں اپنے آپ کو دوسرے طلاب کے سامنے بہادر، نڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا. لیکن! میرا ضمیر مجھے کئی دنوں، مہینوں تک ملامت کرتا رہا. یہ سب میں کہیں اچھے گریڈز کے لئے تو کہیں دوسروں پہ بھرم رکھنے کے لئے کرتا.

           یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد تلاش روزگار کیلئے مختلف دروازوں پہ دستک دینا پڑا. اب خود سے وعدہ کرلیا کہ، خود سے کچھ کر لوں، کب تک دوسروں کی سفارش اور ریفرنس پہ چلوں. کچھ عرصہ بے روزگار رھا، پرائیوٹ اور گورنمنٹ سکیٹر میں کئی دفعہ ٹیسٹ ، انٹرویو بھی دیئے مگر افسوس کہ میں ناکام رہا. ناکامی کے دو ہی وجوہات رہے.

۱- تمام سوالات کے خالی جوابات

۲- اعلی نمبر (جو فقط میری دلجوئی کرتے ہیں).

         اب میں نے لوگوں کا سہارا لینا پھر سے شروع کر دیا اور اعلی سرکاری عہدے پہ فائز ھوگیا. اس مقصد کو پانے کے لئے رشوت اور سفارش کے علاوہ میرے پاس کچھ نہ تھا. اب میں معاشرے کے لئے باوقار شخص بن چکا ہوں. لیکن مجھ میرا ضمیر ہمیشہ یہ کہہ کر جھنجھوڈتا ہے کہ تم اس عہدے کے اہل نہیں. میں اخباروں میں میرٹ کی بحالی کے اخباری بیانات سے خود کو مطمئن کرنے کی نا ممکن کوشش کرتا ہوں. مجھے سے میرے اخباری بیانات پناہ مانگتے ہیں.

کہنے اور لکھنے میں” میں” میرٹ کی بالادستی کے حق میں ہوں. لیکن! میرے اعمال کا سفارش اور رشوت پر اختتام ہوتا ہے. میرے اندر سے اٹھنے والی تحریک کو کسی اور کی مدد درکار نہیں. میرے ذہن پہ ابھرنے والی ہر تحریک، ہر انقلاب کو میری اور فقط میری ضرورت ہے.

نوٹ:- (آپ تمام قارئین بھی لفظ “میں” پہ توجہ دے سکتے ہیں. کہیں معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ آپ والا “میں” تو نہیں).

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc