عورتوں پر تشدد کے خلاف عالمی دن۔ تحریر: دیا زہرا

تخلیق انسان ہی ایک خوبصورت لفظ ہے اسی میں محبت، پیار جیسے خوبصورت لفظ چھلکتے ہیں-۔تخلیق کے سارے رنگ انسانیت میں ہنستے بستے ہیں۔۔۔اگر انسانیت انسانوں کے اندر برقرار رہی تو۔۔۔ وگرنہ انسان تباہ، انسانیت نیست و نابودہو جاتی ہے ماحول میں ایک گھٹن طاری ہو جاتی ہے جب اس ماحول میں لینے والا سانس بھی مشکل سےلینا پڑے ۔یہ شہر ،گاوں ،قصبے بڑے بڑے بنگلے، عمارتیں، فیکٹریاں اسلحے سے لیس پہرےدار وں سے انسانیت نہی چھلکتی۔۔انسانیت انسانوں کے ماحول ہی میں میسر آتی ہےاگر یہ نہ ری تو سب بیکار ہیں ِکاینات کی ساری خوبصورتی انسانیت کے مرہون منت ہیں- وگرنہ جنگل کا ماحول اور انسان دوست ماحول میں فرق نہی رہتا -اگر اس پر غور وفکر نہ کریں نہ سوچے تو سوچنے کی صلاحیت بھی ماند پڑ جایے گی اور جب ماند پڑ جاے تو انسانیت بھی دم توڑ نے لگتی ہیے۔ہمیں ایسا ہونے سے بچانے کی ضرورت ہیں۔۔ماحول کو خوبصورت بنانا ہے۔۔ہنستا بستا زندہ انسانوں سے بھرنا ہے۔جہاں کی گرمی سردی تو محسوس ہو مگر گرمی سردی کی شدت میں اضافے سےلڑنے کی ہمت بھی ہو۔اس بات سے ایک بات میری ذہن میں آئی کہ سردی اور گرمی کی شدت کا پرواہ کیے بغیردن رات محبت بانٹنے والی عورتیں آج 21ویں صدی میں بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہےاور اپنے جائز حقوق مانگنے سے بھی کتراتی ہے-کیا یہ انسان دوست ماحول ہے؟۔۔کیا ایسا انسان ماحول دوست مل سکتا ہےجہاں پر سبھی انسانوں کو جائز حق برابر کا ملے؟ اگر ہاں تو کیسے؟ نہی تو کیوں نہی؟ آج دنیا بھر میں عورتوں پر تشدد کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔۔کتنے سالوں سے یہ دن منایا جا رہا ہے کیا نتیجہ اخذ ہورہاہے کچھ حاصل بھی ہو رہا یے یا تاریخ کے اوراق کو پر کرنے کے لیے ایسا کچھ ہو رہاہے؟؟؟ سب کے سب ایک سوالیہ نشان ہے-ہم ہر سال خواتین کا، بچوں کااور دیگر عالمی دن بڑے فخر سے مناتے ہیں-خوب تقاریر کی جاتی ہیں-خواتین کے حقوق پر بولنے والے ہی خواتین کے حوالے سے زہر اگلتے ہیں-خواتین سے ہمدردی ان کے حقوق کو مساواتی ترازو میں تولا جاتا ہے مگر پھر دن گزرتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں-کتنے سالوں سے یہ دن مناتے آرہےہیں یہ سلسلہ چل رہا ہےمگر ظلم وجبر کی داستان ابھی بھی باقی ہے تشدد کا مطلب ہمارے معاشرے میں مارنا پٹنا سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس سے بھی تکلیف دہ کام زہنی اذیت دینا ہوتاہے، حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔بیٹیوں اور بیٹوں میں فرق کرنا زبردستی کی شادیاں ،کم عمری کی شادی، وٹہ سٹہ کی شادی،اس کے علاوہ جائیداد میں بیٹیوں کو حق سے محروم رکھنا سب تشدد میں شامل نہی تو یہ کس زمرے میں آتا ہے؟ہلانکہ ان سارے معاملات کے حوالے سے اسلام میں بہت زور دیا ہوا ہے-مگر ہمارے معاشرے میں اگر کسی عورت نے کسی بھی حق کے حوالے سے کچھ بولنے کی کوشش غلطی سے بھی کی تو معاشرہ تنقید کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔جینا محال کرتا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں خواتین در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں – حلانکہ اسلام میں تعلیم، رہنے سہنےکے اصول وضوابط، کھاناپینااسلامی طرض کےمطابق ہےاورسبھی کا اُتنا ہی حق ہےجتنا کی مردوں کا حق ہے۔عورتوں کے لیے الگ مردوں کے لیے الگ قانون بنایا ہے اسلام نے نہی معاشرے نے یہاں تک کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لیےسینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدرت کا کرشمہ ہےکہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی یہاں تک کہ یونانی تہزیب سے لیکر روم ،فارس، ھندوستان اور عیسائی تہذیب نےعورت کو معاشرے میں کمتر درجہ دے رکھا تھااُنھوں نے دنیا میں برایئ اور موت کی ذمہ دار اور اصل وجہ عورت کو قرار دیااور ان تہذیبوں نے عورت اور مرد کے درمیان فاصلوں کو اتنا بڑھایا کہ عورت کی حثیت کو پست کر دیا صنف نازک کو ناپاک قراردیا مگر اسلامی تہزیب نے عورت کو عظیم مقام دیابلکہ کائنات کا اہم جز قرار دیا اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تہزیب کی تباہی ایسے حالات میں ہوئی جب عورت اپنی صیح حثیت کھو بیٹھں اور مرد کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی -مگر اسلام نے وہ مقام دیا جس سے وہ معاشرے میں عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی عورت کو اگر دین اسلام کے مطابق حقوق ملے تو اس معاشرے میں کوئی بھی عورت عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوگااسلام کے خلاف ردعمل ہی عورتوں پر ظلم وتشدد کی زندہ مثال ہے نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ دنیا میں آج بھی کروڑوں سے زائد لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے 700ملین لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کی جاتی ہے ہزاروں کی تعداد میں غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں اسلام اس چیز کی اجازت نہی دیتاآج ہمارے معاشرے میں بھی ایسی مثالیں ملنا عورتوں پر تشدد کے سوا کچھ نہیں۔۔یاد رہے کی عدم اعتماد اور جبر مسلسل کا سلسلہ یوں چلتے رہے تو یہ لاوہ ایک دن ضرور پھٹے گا۔۔۔
بقول شاعر
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اٰس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا ذرد

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc