بیٹیاں رحمت ہے۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

رم مختصر قارئین ان دنوں بے روزگار ہونے کی وجہ سے ہم کالم نگار بنے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ ناکام کوشش کرتے رہنے کی ٹھان لیئے ہوئے منزل نامعلوم کی طرف بڑھتا جا رہا ہوں.ویسے آپس کی بات ہے ہمیں ان اوصاف کا بھی نہیں معلوم جو ایک اچھے کالم نگار کے لئیے ضروری ہے.بس جو لکھتا ہوں سچی میں خود کو سمجھ نہیں آتی.بس کیا کروں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں لکھنے کی شاید عادت ہوگئی ہے نشہ اس لئیے نہیں کہا کہ الحمداللہ مسلمان ہوں.لیکن یہ الگ بات کہ کس حد تک مسلمان ہے.لفظ مسلمانی آتی ہے تو ان سماجی و معاشرتی رسم و رواج کی طرف توجہ جاتی ہے جن کا ہمارے مقدس دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا البتہ معاشرتی رتبہ و منزلت و فرسودہ رسم و رواج کی وجہ سے ہم اپناتے ہوئے چلے آ رہے .میں یہاں تمام فرسودہ رسم و رواج کی جانب آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرانا نہیں چاہتا ہوں چونکہ میں نے اوپر خود ہی اقرار کی ہے کہ میں کوئی کالم نگار نہیں ہوں نہ ہی میں اس قابل ہوں کہ تمام سماج دشمن فرسودہ رسم ع رواج کو قلم کے زریعے آپ لوگوں کے سامنے اظہار کے لئیے پیش کروں.اسی لئیے ایک چھوٹی سی سماجی مسئلہ لئیے آپ کی خدمت میں آنے کی جسارت کر ریا ہوں .لیکن میرے اور آپ لوگوں کے نزدیک یہ سماجی مسئلہ یقیناّ ایک سماجی بیماری کے طور پر متارف ہو رہا ہے اسی لئیے اس کو دینی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہا ہوں.اکثر معزز اور پڑھے لکھے حضرات بیٹی کی پیدائش پر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی تو اللہ کی رحمت ہے اور جس گھر میں بیٹی کی پیدائش ہو ان کے والدین سے کہتے ہے کہ اللہ کی رحمت ہر کسی کے لئیے نہیں ہوتی یہ تو قسمت والے اور خدا کے خاص بندوں کے تخفہ ہوتا ہے.یقیناّ بیٹی رحمت ہوتی ہے.باپ کی مان ہوتی ہے تو ماں کے لئے سہارا.بھائی کے لئیے رحمت.لیکن جب یہ بیٹیاں بڑی ہوتی ہے نہ صاحب تو بوجھ بن جاتی ہے.یہ میں نہیں کہہ رہا یہ پورا معاشرہ کہتا ہے.معاشرہ صیح کہہ رہا ہے بیٹاں بوجھ ہوتی ہے ان کے پیدائش سے لے کر شادی تک بلکہ یوں کہے تو بے جا نہ ہو گا ماں باپ بھائیوں کی آخری سانسوں تک.یہ بوجھ کیسے سوال اٹھتا ہے.تو سن لے اس کا مختصر جواب ان کی پیدائش کے بعد ہی ان کے گھر والوں کو اس کی عزت کی فکر ہو جاتی ہے جب کچھ بڑے ہو جائے تو تعلیم اور گھر سدھارنے کی فکر.اف گھر سدھارنے کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جو موت تک ساتھ نہیں چھوڑتا.میں نے آپ لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ تمام سماجی مسائل کا ذکر نہیں کرونگا.بس مختصراٰ جہیز جیسی لعنت کی بات کرونگا.وہ رحمت والی بیٹی پل بھر میں زحمت کیسے بن جاتی ہے اس سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں.بیٹیاں کیسے والدین پر بوجھ بن جاتی ہے کا احوال سنانا چاہتا ہوں.یہ سب آپ اور ہماری ناکامی ہے جناب ہم نے اللہ کی رحمت کو زحمت بنا دیا خبروں میں روز سننے کو مل جاتی ہے کہ فلاں بیٹے والوں نے صرف اس لئیے شادی سے انکار کیا کہ جہیز کے کچھ سامان کم ہے.فلان گھر میں تین چار لڑکیوں کی شادی اس لئیے نہیں ہو پا رہی ہے کہ ان کے والدین جہیز دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں.فلان لڑکی کوجہیز نہ لانے کی وجہ سے طلاق ہوئی یہ ہمارے معاشرے کی روایات بن چکی ہے.ہر گھر میں بہو کو طعنے ملتی ہے.یہ تو بیٹیوں کا اعلٰی ظریفی ہوتی ہے وہ چپ چاپ سب کچھ اکیلی سہہ لیتی ہے.رحمت کو رحمت سمجھے گا اسے زحمت بننے کھبی نہ دیجے گا.اپنے معاشرے کی اصلاح کریں .جہیز کے خلاف اعلان جنگ کریں.اپنے معاشرے کو سنبھال دیجے اس سے پہلے کہ خود کو سنبھال نہ سکے .نوجوان شادی کے وقت جہیز کی ڈیمانڈ نہ کریں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ کل کو آپ بھی مشکل میں پڑھ سکتا ہے.کیونکہ رحمت ہر کسی کے گھر دستک دیتی ہے اسے زحمت بنانے کی کوششوں کا ساتھ نہ دے.آئے ہم سب آج ایک عہد کرتے ہے کہ ہم جہیز کے خلاف جہاد کرینگے.اور رحمت کو زحمت بننے نہیں دینگے

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc