تاجر تحریک۔۔۔! تحریر: عبدالحمید

تین دنوں کی مکمل ہڑتال کے بعدبلاآخر گلگت بلتستان حکومت اور تاجر برادری کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں نومبر ۲۳ تک کے لئے ہڑتال موخر کر دی گئی اور حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن بھی سامنے آئی جس کے مطابق گلگت بلتستان میں ودہولڈنگ ٹیکس کو موخر کردیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود بھی بینکوں میں ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی جاری ہے۔ اب وفاقی حکومت نیودہولڈنگ ٹیکس بڑھا کر نئی شرح بھی جاری کر دی ہے جس سے تاجروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گلگت بلتستان کو ماضی میں ٹیکس فری زون قرار دے کر ہر قسم کی ٹیکس کی چھوٹ دی گئی تھی۔ ۲۰۰۹ ء کو گلگت بلتستان کو خصوصی صوبائی اختیارات دیں گئیں حالانکہ اس خصوصی صوبائی اختیارات کے باجود آئینی طور پر گلگت بلتستان کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑا اور آج بھی گلگت بلتستان کو عوامی نمائندگی اور قانون ساز اداروں میں کسی بھی قسم کی نمائندگی سے محروم ہے اور مزید یہ کہ دوسرے آئینی صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کے غریب عوام پر ٹیکسو ں کا بوجھ لادا جارہا ہے۔ ملازم طبقہ ۲۰۱۲ء سے انکم ٹیکس دے رہی ہے۔اس کے علاوہ بینک میں موجود رقوم کی لین دین پر اور سامان کی برامدگی پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس لاگو کر دیا۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں سے زریعے سے بھی مختلف ٹیکس کے نفاذ کے لئے کو ششیں جاری ہیں۔
ان تمام نا انصافیوں پر عوام نے تاجر برادری کا ساتھ دیتے ہوئے ہڑتال کو کامیاب بنایا۔ گلگت بلتستان میں ہڑتال اور حقوق کی آوازیں اس سے پہلے بھی بلند کی گئیں اور گلگت بلتستان کی سیاسی و معاشی محرومیوں کی وجہ سے علاقہ کے تمام طبقات نے ہر ہڑتال کو کامیاب بنایا ۔ ۲۰۱۳ء میں گندم کی سبسڈی کے ختم کئے جانے پر عوام نے سڑکوں پر آ کر عوامی ایکشن کمیٹی کا بھرپور ساتھ دیا اور ہر طرح کی قر بانیاں دیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح کچھ خاص طبقہ ان ہڑتالوں سے اپنے مفادات کے تحفظ کا کام لیتے ہیں اور مزدور اور محنت کش طبقہ کے جدوجہد و قربانی کو اپنے مذموم مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے۔ اُس وقت کے عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی حکومت سے مذاکرات کر کے ہڑتال کی کال ایسے موقع پر ختم کی جب عوام نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا ہوا تھا۔ اب چونکہ مرکزی انجمنِ تاجران گلگت بلتستان اس ہڑتال کی قیادت کر رہی ہیں اب تک کہ نتیجے اس سے مختلف نہیں ہیں۔ تاجر برادری کی کال پر ۱۳نومبر کو شروع ہونے والی ہڑتال مکمل کامیاب رہی اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لئے مزدور طبقہ نے بھی ہڑتال کا ساتھ دیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی جس نے پہلے بھی گندم تحریک کی قیادت کی تھی نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا توہر جلسے میںآئینی حقوق کے نعرے لگانے کے باوجود نہ اس میں گلگت بلتستان کے آئینی مسئلہ کوئی ایک بات نہیں کی گئی تھی۔ گو کہ بہت سے دوسرے مسائل کے حل کی ڈیمانڈ کی گئی تھی۔ لیکن تین دن بعد مرکزی انجمن تاجران گلگت بلتستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے تونچلہطبقہ تو دور کی بات کسی دوسرے کو بھی تحریک کی طرف سے حکومت کے ساتھ بات چیت کے لئے نہیں بلایا گیا حتیٰ کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی۔ اس صورت حال میں ایک چیز بڑی واضح اور صاف تھی کہ تاجر برادری صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے تحریک کو استعمال کر رہی ہے۔حالانکہ اس تحریک کو کامیاب بنانے میں ہر طبقہ نے تاجر برادری کا ساتھ دیاخاص کر سول سوسائٹی ، نوجوانوں کی تنظیمیں، سیاسی تنظیمیں ، اور خاص کر دہاڑی دار مزدور سے لیکر چھوٹے چھوٹے دوکاندار، اور کسان سب نے اپنی روٹی کی قربانی دے کر اس تحریک کا ساتھ دیا۔اس کا صلہ ان نچلے طبقے کو کچھ یوں ملا کہ تاجر برادری نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں صرف اور صرف ٹیکس (Adoption) ایکٹ ۲۰۱۲ء پر وزیر اعظم سے بات چیت کی شرط پر تحریک کو ۲۳ نومبر تک کے لئے موخر کر دیا۔ ان مذاکرات میں نہ آئینی مسئلے کو اُٹھایا گیا اور نہ ہی عوامی ایکشن کمیٹی کے کسی مطالبے کو شامل کیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ تاجر برادری پر لگنے والے صرف ایک ودہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کی تحریک ہے تو ہم سب اس میں کیوں شامل ہیں؟ اس تحریک کے آغاز سے پہلے بھی گلگت بلتستان کی محرومیوں پر کافی تشویش پائی جاتی تھی خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں میں گلگت بلتستان کی غیر آئینی حیثیت اور پھر بے اختیار صوبائی سیٹ اپ نے کافی افسردہ اور نا امید کر دیا تھا۔ جب اس تحریک کا آغاز ہوا تو ان نوجوانوں نے، دانشوروں ، صحافیوں اور سیاسی اور سماجی کارکنوں نے اس تحریک کو ایک موقع کی شکل میں دیکھا کہ اس تحریک میں بھرپور نمائندگی گلگت بلتستان کی آئینی مسائل کو اجاگر کرے اور اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکل سکے گا۔ اس تحریک کو سماجی رابطوں کے ویب سائیٹس پر کافی مقبولیت بھی انہی سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کی وجہ سے حاصل ہوئی۔
لیکن اس کے آغاز کے تین دن بعد ہی ہماری توقعات سے یکسر ہٹ کر اسے التویٰ میں ڈال دیا گیا۔ نہیں ہم نے اس تحریک کو اس لئے کامیاب نہیں بنایا کہ اس تاجر اپنے مفادات کو حاصل کر کے اس تحریک کا قلعہ قمع کر دیں۔ اس تحریک میں اُن کا بھی حصہ ہے جو اپنی ماہانہ آمدنی میں سے انکم ٹیکس دیتا ہے، وہ مزدور بھی شامل ہے جنہوں نے اپنی دیہاڑی اس تحریک کے لئے چھوڑ کر یادگار پر جلسوں میں شریک ہوئے۔ ان کا بھی حق ہے جن کو قلم اور زبان نے لوگوں اس قدر شعور دیا کہ وہ تاجر وں کے لئے سڑکوں پر آئے۔اور ان تمام طبقات نے صرف اس لئے اس تحریک کا ساتھ دیا ہے کہ یہ تحریک حقوق کی بات کرے گا انصاف اور برابری کی بات کرے گا اور آئینی حقوق کے لئے بھی آواز اُٹھائے گی۔ لیکن ان تمام لوگوں کی قربانیوں کو خاطر میں نہ لا تے ہوئے تاجر برادری نے اپنے مفادات پر قوم کے مفادات کا سودا کیا۔ انہی تاجروں کی قیادت کے ساتھ ۲۳ نومبر کے بعد پھر ہڑتال ہو بھی جائے تو کیا ہوگا؟ صرف ود ہولڈنگ ٹیکس پر ہی حکومت سے مذاکرات ہوں گے حکومت سے دے دلاؤ ہوگا ہو سکتا ہے حکومت ٹیکس واپس بھی لے لیں تب بھی ہڑتال ختم ہوجائے گی اور ہم پھر سے اُسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں سے ہم نے شروع کیا تھا۔ اور پھر ود ہولڈنگ ٹیکس نہ غریب عوام کا مسئلہ ہے نہ ملازم طبقہ کا، نہ چھوٹے کاروباری حضرات کا، اور نہ مزدور اور نہ ہی طلبہ کا۔ یہ مسئلہ اُن گنے چنے دولت مند ، سرمایہ دار طبقے کا مسئلہ ہے جو ایک ایک دن میں لاکھوں کروڑوں کا لین دین کر تے ہیں۔ اِس طبقے کے مفادات کے لئے باقی سارے طبقات قربانی کیوں دیں۔اس طرح کی تحریک نہ کبھی کامیاب ہوئی ہیں جس کی قیادت صرف اور صرف بورژوا اور اوپر کے طبقہ کے ہاتھ میں ہو اور نہ ہوں گی۔جب تک طلبہ کو، نچلے طبقات کو ، جب تک پسے ہوئے قومیتوں کو، اور جب تک طاقت کا مرکز یعنی عوام کو ایسے تحریک میں حقیقی معنوں میں شامل نہ کیا جائے اور جب تک عوامی رائے کو ، امنگوں کو ، اور خواہشات کا احترام نہ کیا جائے اس سے بڑی تحریکیں بھی دم توڑ جاتی ہیں۔واقعی کسی مزدور نے سہی کہا کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ ہڑتال سے تمھارا نقصان نہیں ہورہا ؟ تو جواب دیا
ہم تمھارے(تاجروں) نقصان کے لئے اپنے فائدے کی قربانی دے رہے ہیں۔۔۔!

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc