گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا 22واں اجلاس کے دوسرے روز اسمبلی میں سخت گرما گرم بحث،جی بی کونسل کو ممبران پر شدید تنقید، گلگت بلتستان انتظامی صوبے کا نام تبدیل کرکے سرکاری طور پر غیر آئینی صوبہ رکھنے کی تجویز۔

گلگت(نمائندہ خصوصی) قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبران اسمبلی کا جی بی کونسل کے اراکین کو شدید تنقید کا نشانہ ،مسلے وہ کھڑے کرتے ہیں اور ادھر بھگتے ہم ہیں۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا 22واں اجلاس کے دوسرے روز پارلیمانی سکریٹری اورنگزیب ایڈووکیٹ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کونسل میں خالی آسامیوں پر تعیناتی کیلئے جاری ہونے والے اشتہار کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اشتہار کے مطابق خالی اسامیوں کیلئے پورے پاکستان سے درخواستیں طلب کی گئی ہے جو کہ گلگت بلتستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے زیادتی ہے جس کی مذمت کی جاتی ہے اور چیئرمین جی بی کونسل سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جی بی کونسل کی تمام آسامیوں پر جی بی کے ڈومیسائل رکھنے والے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے اور مذکورہ اشتہار کو منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جس نے یہ اشتہار جاری کیا ہے ،جی بی کونسل میں 24آسامیوں کیلئے درخواستیں طلب کی گئی ہے۔ جی بی کونسل جی بی کا ادارہ ہے لیکن درخواستیں تمام صوبوں سے طلب کرنا جی بی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس مسئلے پر ہم سب کو ملکر آواز اٹھانی ہوگی۔ ہمارے اداروں میں باہر کے افراد کو تعینات نہ کیا جائے ایسے اقدامات کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔ نواز خان ناجی نے اس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس خطے کومنہ بھر کر پاکستان کا صوبے کہنے کی وجہ سے ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں ،ہمیں اس کوپاکستان کا انتظامی صوبہ نہیں بلکہ NCP(نان کنسٹیٹیوشنل پرونس)صوبے کا نام دینے کی ضرورت ہے ،تاکہ آئند ہ ہم پر ایسے مسئلہ مسلط نہیں کیا جاسکے ۔ قرار داد مذمت کو متفقہ طور پر منظور کی گئی ۔ دوسری قرار داد رکن اسمبلی عمران ندیم نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژنوں میں بنیادی سہولیات کے ساتھ مردہ خانے تعمیر کئے جائے جس پر سپیکر نے ترمیم کرکے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں مردہ خانے تعمیر کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc