خطہ بے آئین کے مکینو… عزت کی زندگی کا راز غیرت ہے۔ تحریر: محمد حسن جمالی

زندگی بڑی نعمت ہے، اللہ تعالی نے انسان کو عزیز بنایا ہے ذلیل ہونے کے لیے ہرگز خلق نہیں کیا ہے۔ عزت سے معمور زندگی ہی حقیقت میں زندگی ہوتی ہے۔ عزت سے تہی ذلت وخواری سے بھرپور زندگی حقیقت میں موت ہوتی ہے نہ زندگی ۔ عزت کی زندگی کا راز غیرت ہے ۔ غیور انسان کبھی بھی ذلت آمیز زندگی سے خوش وراضی نہیں رہتے بلکہ وہ ہمیشہ عزت والی زندگی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اس ہستی سے شدید محبت رک?تی ہیں جس نے ہر آذادی خواہ انسان کو آذادی کا راستہ دکھایا ہے اور ہم اس بات کے دعویدار ہیں کہ نواسہ رسول نے ہمیں کامیاب زندگی کے اصول اور رموز سے آگاہ کیا ہے نیز حقیقی زندگی اور جعلی وبناوٹی زندگی کا فرق بھی واضح کیا ہے۔ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ فرزند رسول نے بشریت کو جینے کا سلیقہ بھی سکھادیا اور مرنے کا طریقہ بھی ۔ لیکن اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو ہم اس منجی عالم بشریت کی سیرت پر نہیں چل رہے ہیں، ان کی منطق سے ہم کوسوں دور ہیں، آپ کی منطق تو یہ تھی” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے” ستر سالوں سے زلت کی زندگی اہلیان گلگت و بلتستان کے حصے میں آئی ہوئی ہے۔ یہاں کے باسی ستر برسوں سے غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے, حکومت پاکستان نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دے کر قومی دہارے میں شامل کرنے کے بجائے اس خطے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، ظاہر ہے کہ پاکستانی ریاست پر کچھ ظالم اور مفاد پرست اشرافیہ طبقے قابض ہیں جنہیں نہ قوم کی فکر ہیں اور نہ ملک کا خیال ۔ انہیں ہمیشہ فقط اپنے مفادات کی فکر لاحق رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں اقتدار سنبھال کر اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی باری لگائی ہوئی ہے، غریب عوام کا سرمایہ چرا کر باہر ملکوں میں اپنے اور اپنی اولاد کے لئے بنگلے اور کوٹھی خرید رہے ہیں، سابقہ وزیراعظم نواز شریف نے تو قومی سرمایہ لوٹنے میں دوسروں سے ذیادہ مہارت اور ہنر دکھانے کی وجہ سے پاناما کیس گلے کا طوق بنکر اس سے چھٹکارا نہیں پارہا ہے اور آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے ملک کے سارے چور اور لٹیرے اس کی زد میں آرہے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ ایسے چوراور ڈاکو ملک کے اعلی عہدوں میں قابض رہنے کی وجہ سے ابھی تک ”گلگت بلتستان” کے باسیوں کو غلامانہ زندگی سے نجات نہیں مل رہی ہے اور ہماری پیشنگوئی یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے جوان پڑھے لکھے طبقوں کی موجودہ صورتحال باقی رہی تو آئندہ بھی گلگت بلتستان والوں کو آذادانہ زندگی ملنے کی امید نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور جوان متحرک ہوجائیں، اپنے اور آئندہ کی نسلوں کے نفع اور نقصان کا ادراک کریں،وہ اس حقیقت پر باور قلبی پیدا کریں کہ غلامانہ زندگی ذلت کی عزت ہے اور زلت کی زندگی زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔ آپ یہ جان لیں کہ پاکستانی حکمرانوں نے جان بوجھ کر گلگت بلتستان کو آئینی حق سے محروم رکھا ہوا ہے, چونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر گلگت بلتستان کے ”آئینی حق” کو تسلیم کیا جائے تو وہ اپنی پوری شناخت کے ساتھ قومی رہارے میں شامل ہوگا پھر گلگت و بلتستان کے عوام ہماری آنکھوں میں آنکھویں ڈال کر ہم سے اپنے پورے حقوق مانگیں گے اور ہم انہیں ان کے پورے حقوق دینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری بد قسمتی سمجھ لیجئے کہ ہمارے نام نہاد وزیر اعلی سمیت گلگت بلتستان کے مختلف سیٹوں پر قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے افراد اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے خطہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق سے محروم رکھنے والوں کی سازشوں کو مستحکم کرنے میں فعال دکھائی دیتے ہیں، حالیہ ٹیکس کی مخالفت میں گلگت بلتستان کے عوام نے تین دن ہڑتال کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا لیکن ہمارے نام نہاد وزیر اعلی صاحب بھاگ کر یورپ کی سیر کو چلے گئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی ہنگامی صورتحال کے موقعے پر وہ جہاں بھی ہوں جلد اپنے خطے میں پہنچ کر لوگوں کی دادرسی اور دلجوئی کرتے، عوام کی آواز بن کر ایوان بالا تک ان کا مطالبہ پہنچادیتے، مگر ایسا نہ ہوا کیوں نہیں ہوا؟ چونکہ ہم آزاد نہیں، ہمارے عہدہ داران کو پاکستانی حکمرانوں نے اپنا غلام بنا کر اپنے اشاروں پر چلنے کا پابند کیا ہوا ہے، ایسے میں گلگت بلتستان کے باشعور افراد کو اپنے اندر غیرت پیدا کرکے میدان میں نکل کر اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کی ضرورت ہے، عزت کی زندگی میسر آتی ہے غیرت کا مظاہرہ کرنے سے، بے شک عزت کی زندگی کا راز غیرت ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc