حکام کی چالبازی یا سنجیدگی . تحریر: پروفیسر علی شفاء

گلگت بلتستان کے عوام نے گزشتہ ہفتے جس زندہ دلی کا ثبوت دیا جس سے ایک باشعور قومیانہ مستقبل کی کرن جھلک گئی اب مزید کسی قسم کے فامولے کا میاب نہیں ہونگے عوام نے جس جسارت اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ قا بل ستائش اور حو صلہ افزا ہے اب عوام کو چالبازی اور نقصانات کا ادراک ہوا ہے تقسیم کیو نکر کیا جاتا ہے اور اس کا فایدہ کس کو ہو تاہے!!! پاکستانی میڈیا اور سیاسی جما عتو ں کی طرف گلگت بلتستان کے عوام کی تین روزہ مکمل ہڑتال پر مکمل خاموشی نے ایک نیا بحث چھیڑ دیا ہے اور وفاقی پارٹیوں اور پاکستان سے منسلک مذہبی جماعتوں کے مقا می لیڈر شپ کے لیے نیا محاذ کھول دیا ہے جن کی مدح خوانی میں اکثریت کی زندگی گزر گی لیکن اس مشکل گھڑی مین انکی بے رخی نے اکثر دیرنہ کارکنوں کو سختذہنی اضطراب میں ڈال دیا ہے جس کی واضح مثال آج کل کے سماجی مباحثو ں سے لگایا جاسکتاہے۔پاکستان کے کسی کونے میں پبلک ٹرنسپورٹ کی انتظار مین موجود لوگ اگر اکتا کر چار الفاظ بولتے ہین تو میڈیا اور سیاستدان اسکو میڈیا ایشو بنانے کی کوشش کرنے والے کو 25 لاکھ گلگت بلتستان کے عوام کی مکمل ہڑ تال نظر ہی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کے عوام کے لیے یہ اچھا ہوا ہے و قت حقیقت کا اشکار ہونا فاہدہ مند ہے تاکہ انسان اپنانے اور پرائے میں تمیز کر سکے۔پاکستان مسلم لیگ کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن دوسری پارٹیوں کی خاموشی نے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔گزشتہ ستر سالوں کی محرومیت کی اصل وجہ کہیں یہی جماعتیں تو نہیں جن کو ہم مسیحا سمجھ بیٹھے تھے؟ کشمیری قیادت جس کو ہم ہمیشہ حقوق کے راستے کا پتھر سمجھتے تھے آج شوشل میڈیا میں گلگت بلتستان کے عوام کے حق میں کود پڑے ہیں۔عالمی میڈیا نے بھی بھر پور کوریج دیا اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ایسے میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے چندمفادپرستوں نے اس پرامن عوامی جدوجہد کو سی پیک کے خطرہ قرار دیکر اپنانے وظائف کو حلال کرنے کی ناکام کوششیں کی۔گلگت بلتستان کے عوام سیپک سمیت کسی بھی میگا پروجیکٹس کے مخالفت نہیں کی البتہ اپنے حصے کی ڈیمانڈ ضرور کی ہے جو انکا حق بنتا ہے اگر کوئی جان بوجھ کر مخالفت پیش کرتا ہے تو وہ پاکستان اور گلگت بلتستان کا دشمن ہے پاکستان کو ایسے لوگوں پر کڑی نظر رکھنا چاہیے۔عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی مذاکرات ٹیم کو مقتدر حلقوں کی جانب سے مسلم یقین دہانی ایک قابل ستائش عمل ہے ورنہ یہ معاملہ کافی گھمبیر ہو نے کا خطرہ تھا۔وقفے سے فائدہ لے کر اس مسلے کا مکمل حل نکالنا ایک بہت بڑا امتحان ہے اب ان حلقوں کی زبان اور وعدوں کا سوال ہے۔حکومت کا تو عوام کو بھروسہ نہیں کیونکہ ہر انسان کا ماضی اسکا آئینہ ہوتا ہے اگر آئینہ ایک دفعہ ٹوٹ جائیں تو پھر جوڑ نہیں سکتا امید ہے اس وقفے کو غنیمت جان کر بہترین حل نکالا جاے گا نہ کہ روائیتی حربوں سے پرامن فضا کو آلودہ کرنے کی کوئی مہم جوئی کی جائے گی۔کیونکہ عوام کسی صورت آئینی حقوق کے بغیر کسی بھی قسم کا ٹیکس دینے کے موڈ میں نہیں جس کہ واضح مثال ہڑتال کی موخر ی سے پہیے کا پیغام اور جاری عوامی روابط سے لگایا جاسکتا ہے۔سول نافرمانی جیسے انتہائی اقدام کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگ ذہنی طور پر ہر قسم کے حالات کے لیے اپنی تیاری کرسکے۔دنشمندی یہی ہے کہ برے حالات سے کسی صورت بچایا جا سکے نہ کہ ہار جیت کا پیمانہ لے کرمعاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے سے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc