کھرمنگ تزیبی لونگبہ اور اوسینگ کے عوام کی فریاد۔تحریر : محمد حسن جمالی

تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اس کے بغیر ترقی کا تصور خواب ہے – یہ بدیہات میں سے ہے کہ ہر شہر اور گاوں میں بچوں کے لئے تعلیمی اسکولز اور ان میں ضروری لوازمات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے جس سے کوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا ،لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بهی بلتستان کے کچهہ دور افتادہ علاقے ایسے نظر آتے ہیں جہاں ابهی تک گورنمنٹ کی جانب سے پرائمری اسکول تک نہیں، جن میں سے ایک کهرمنگ وادی کندرک کے دو گاووں تزیبی لونگبہ اور اوسینگ ہیں، یہ دو گاووں مختصر فاصلے پر ایک دوسرے کے قریب ہیں، ایک سال قبل تزیبی لونگبہ میں پرائمری اسکول کی عمارت بنی ہے لیکن گورنمنٹ اسے اپنی تحویل میں لینے سے ابهی تک انکاری ہے ،وجہ کیا ہے؟ کسی کو کوئی پتہ نہیں، جس کی وجہ سے بلڈنگ تیار ہونے کے باوجود ابهی تک وہاں گورنمنٹ کی جانب سے کوئی ٹیچر نہیں، جس کے سبب ان دو گاؤں کے بچے اور بچیاں ابتدائی تعلیم سے ہی محروم اور والدین اپنے بچوں کے مستقبل سے سخت پریشان ہیں- میں اپنی اس مختصر تحریر کی وساطت سے کهرمنگ کا موجودہ نمائندہ جناب اقبال حسن صاحب کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبزول کرانا چاہتا ہوں کہ آپ مذکورہ دو گاؤں کے بچوں کے اسکول کے مسئلے کو فی الفور حل کریں -بلڈنگ بنی ہوئی ہے آپ صرف اسکول کو گورنمنٹ کی تحویل میں لے کر وہاں ایک ذمہ دار ٹیچر کا تعین کریں- آپ کهرمنگ عوام کا نمائندہ ہے، کهرمنگ علاقوں کے مسائل کو حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے -امید ہے آپ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرکے شکریہ کا موقع بخش دیں گے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc