متنازعہ گلگت بلتستان اور وفاقی سیاسی جماعتیں ۔ تحریر : حافظ ناصر انصاری

دوسرے تمام ابحاث سے قطع نظر اس بات پر میں بولنا چاہونگا کہ ہمارے ان تمام مسائل کے حل کی راہ میں اصل رکاوٹ یہی وفاقی پارٹیز اور ان کے مقامی دم چیلے بنے ہوئے ہیں بشمول مذہبی جماعتوں کے ، یہ کبھی نہیں چاہتے کہ ہمیں ایک ممکنہ جائز اور اصولی حل کی جانب بڑھیں ۔ ہمیں اپنے قانونی طور جائز اور ممکن الحصول اصل مطالبے سے دور رکھنے کیلیے ناممکن الحصول اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق غیر قانونی اور ناقابل عمل مطالبہ یعنی صوبے کے حصول کے مطالبے کے پیچھے ستر سال سے لگایا ہوا ہے جب کہ اس سے ہمیں فایدہ کچھ نہیں ہونا ۔۔ افسوس کے ساتھ کہ اس میں ہمارے علمائے کرام بہت ہی اندھے طریقے سے استعمال ہوئے ۔ اس اصل جائز اور قانونی مطالبے سے عوام کو انہی علماء نے اندھیرے میں رکھا بلکہ آج بھی سر ممبر الحاق کا جھوٹا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تو بہت افسوس ہوتا ہے، ہم علماء اور احترام بزرگان کے قایل ہیں مگر ان ناعاقبت اندیشوں سے سیاسی اختلاف صرف اور صرف قومی مفاد میں کرتے ہیں تو ہمارا اندھا مزہبی طبقہ کبھی قوم پرست ، کبھی غدار کبھی روشن خیال نہ جانے کیا سے کیا طعنے دے کر رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
سید حیدر شاہ کو بھی انہی علماء سے یہی شکایت عمر بھر رہی ، میں ذاتی طور پر مل چکا ہوں سے ،ہمارے وفاقی پارٹیز کے چیلوں کا اپنا کوئی وژن یا قوم کے مستقبل کی فکر نہیں ہوتی،مذہبی رہنماؤں نے اندھا ہوکر وہی نعرہ بلند کرنا ہے جو وفاق سے ساجد نقوی اور راجہ ناصر نے کرنا ہے۔چاہے اس سے ہمارے مقامی اتحاد و اتفاق کو ٹھیس پہنچے یا مرکزیت کمزور ہو ، ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتا ،اور یہ آپ نے گزشتہ انتخابات میں دیکھ بھی لیا ۔ رہی بات پی پی اور ن لیگ و دیگر سیاسی ٹھیکیداروں کی تو ان مفادات کے سواگروں کی بات ہی نا کریں ۔۔ بلاول اور نواز شریف جیسے سرمایہ داروں کو کبھی ہماری قوم کی فکر نہ ہوگی ۔۔ انہیں ہماری تہزیب ثقافت اقدار ، ہماری آئیندہ کی نسلوں کے مفادات سے کیا غرض، ہمارے نام نہاد گھٹیا سوچ والے چند لوگوں کو انکی طرف سے گاڑی گھر کے اخراجات ، و دیگر مراعات مل جاتی ہیتو ان کی دہلیز کو بوسہ دینے اور ساتھ ایک عدد تصویر کا موقع مل جانے اپنی سیاست کا معراج سمجھتے ہیں اور عمر بھر سر دھنتے رہتے ہیں ۔۔ وہ وفاق سے دن کو رات کہیں تو یہاں بھی ان ضمیر فروشوں نے اس کا دفاع کرنا ہے ۔ اسی بات کی انکو مزدوری ملتی ہے ۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ یہ وفاقی غیر مقامی جماعتیں اور رہنماء کبھی بھی ہمارے مفاد میں نہیں ۔ ان کی سیاست اب یہاں سے ختم ہونی چاہیے ۔
ہماری قیادت مقامی محب وطن مخلص اور باشعور ہاتھوں میں منتقل ہو تو ہی کچھ ہونا ممکن ہے، ویسے بھی اس متنازعہ اور استصواب راے کی طلبگار و حقدار علاقے میں ان کی سیاست غیر قانونی ہے۔ میں بحیثیت گلگت بلتستان کے ایک فرد کے تمام غیر مقامی وفاقی جماعتوں کی گلگت بلتستان میں سیاست کو غیر قانونی قرار دینے اور بلکل ہی ختم کر دینے کا مطالبہ کرتا ہوں ۔۔۔ دیکھنا پھر ہمارے مسائل کیسے دنوں میں حل ہوتے ہیں ۔۔۔

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc