بے روزگاری اور گلگت بلتستان۔ تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

لفظ بے روزگاری کا سن کر مجھ جیسے چھوٹے دل کا انسان پریشان ہو جاتا ہے چونکہ اول تو خود بے روزگار ہے دوسرے سماجی بہبود کا ادنی سا طالب علم ہونا معاشرتی ذمہ داری کا باعث بنا ہوا ہے.خیر سے اس ذمہ داری کا حق صرف لکھ کر یا کالم لکھ کر کر سکتے ہے ورنہ تو ہماری بھی بے روزگاری کو کافی عرصہ ہونے جا رہا ہے.ویسے تو بے روزگاری ہر ملک کا مسئلہ بنی ہوئی ہے لیکن شدید صورتحال 1930 کے عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے ہوا.اسی بحران کی بدولت دنیا میں غربت کی شرح انتہائی حد تک بڑھ چکے ہے.پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس کے اثرات بہت گہرے ہو گئے.پہلے سے غربت کے چکی میں پھنسی ہوئی عوام و حکومت اس بحران کی وجہ سے مزید غربت کے دلدل میں گر گئے.جس میں اضافہ ہوتے ہوئے آج بے روزگاری کی حد انتہا کو پنہچ چکی ہے.غربت کی وجہ بہت سارے ہو سکتے ہے کہیں پر وسائل کی کمی’ حکومتی نظام ‘رشوت و سفارشی کلچر اور کرپشن وغیرہ .لیکن دنیا میں کچھ علاقے ایسےبھی ہے جہاں بےروزگاری اور غربت کی بڑھی ہوئی شرح ان کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جانے کی وجہ سے ہے.گلگت بلتستان بھی دنیا کے ان بدقسمت علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح بہت ذیادہ ہے.چونکہ پچھلے ستر سالوں سے کشمیر کاز کو لے کر ان علاقوں کے عوام کو وفاقی حکومت نے ہر طرف سے بنیادی و آئینی حقوق سے محروم رکھا ہے. 28 ہزار میل اور 30 لاکھ والے آبادی رکھنے والے اس علاقے کی مجموعی بجٹ روالپنڈی اور ملک عزیز کے دوسرے شہروں کی ایک میگا براجیکٹ کے برابر بھی نہیں ہوتی ہے.اول تو بجٹ یہاں کے لحاظ سے بہت کم ہے تو دوئم ان میں سے اکثر غیر مقامی آفیسر کی شاہ خرچیوں پر خرچہ ہوتے ہیں.اور بجٹ کا ذیادہ حصہ کرپشن کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے.ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی کثیر تعداد اپنے علاقوں میں روزگار کے زرائع نہ ہونے کی وجہ سے ملک عزیز کے روسرے شہروں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہے.حکومت نے مقامی لوگوں سے روزگار کے تمام زرائع چھین لئیے ہے.معدنیات پر پابندی کافی سال پہلے لگائی جا چکی ہے اب مختلف حلیے بہانوں سے بڑھتی ہوئی سیاحت اور تجارت کے پیش نظر غیر آئینی ٹیکس کا نفاذ کر کے مزید نوجوانوں کو بے روزگاری کی طرف دکھیل رہے ہیں.حکومتی اقدامات سے گلگت بلتستان میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں مل رہا ہے جو بعد میں مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ بے روزگاری معاشرتی برائیوں کا سب سے بڑا سبب ہے.لہذا حکومت ہوش کا ناخن لیتے ہوئے اس علاقے کے عوام کی احساس محرومی کا خاتمہ کریں کہیں ایسا نہ ہو یہ لوگ بھی بغاوت کا علم اٹھا کر نکلے کیونکہ اس جدید دور میں کسی بھی قوم کو حقوق سے محروم رکھنا بہت مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc