گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے تعین کا حق کسے ہے ؟ تحریر : حافظ ناصر انصاری

ایک اہم بات اورعمومی مطالبہ جو اکثر گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے یہاں کے بعض حضرات کرتے ہیں اور وہ یہ کہ پاکستان کے زاتی مفادات کے ٹھیکیداروں اور ستر سال تک ہمارے بنیادی حقوق غصب کر کے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تیسری دنیاکے بھی تیسرے درجے کے شہریوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کرنے والے حکمرانوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے آئین میں ہماری حیثیت کا تعین کریں کہ ہم متنازعہ ہیں ؟ آپ کےپاکستان کا حصہ ہیں یا کچھ اور ؟
یہاں اختلاف کرونگا میں ۔۔ پاکستانی اسمبلی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ گلگت بلتستان کی آئینِی حیثیت کا تعین کرے، یہ 28 ہزار مربع میل کا علاقہ جسے ہمارے آباءواجداد نے خون دے کر بزور بازو حاصل کیا کوئی لاوارث جائداد نہیں ہے، نہ ہی یہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین کوئی مقامی سرحدی تنازعہ ہے۔
یہ 25 لاکھ انسانی آبادی کی آزادی ، بنیادی حقوق اور قومی شناخت کا مسئلہ ہے اور بین القوامی مسئلہ ہے،اسے عالمی مسلم اصولوں کی روشنی میں یہاں کے عوام کے امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، یہاں کے آئینی مستقبل کے تعین کا حق یہاں کے جدی پشتی عوام کو ہونا چاہیے نہ کہ پاکستان یا ہندوستان کی اسمبلی کو۔۔

اس ریاست کےمستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام اپنے مفادات کو پیش نظر رکھکر خود کریں گے کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر ہماری سرزمین اور لاکھوں زندہ اور باشعور لوگوں کی قسمت کا ابدی اپنے ہاتھ میں لیں ۔

ہے دنیا آزاد انسانوں کی بستی ہے ، بھیڑ بکریوں کی سودے بازی کا بازار نہیں ۔۔۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc