وقت آن پنچا ہے ۔انسان بنو!!!! تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

یہ لفظ میری لئے برداشت سے باہر تھی جب میرے دوست نے تنہائی میں مجھ سے کہا کہ وقت آن پنچا ہے انسان بنو.پہلے پہل تو دوست پر بہت غصہ آرہا تھا اور غصے میں اس سے پوچھا بھی نہیں بھائی کس بات کو لئے کہہ رہے ہو خیر ان کے جانے کے بعد سوچتا رہا کہ کس وجہ سے بات کہی تھی معلوم نہ ہوا بہت بڑی اضطراری کفییت میں دن بھر رہا لیکن کوشش ناکام رہی.بات کو لئے مشترکہ دوست کے پاس جا پنچا وہ دوست ہمارے ہر رویہ سے مکمل طور پر واقف تھی. بہرحال دونوں کی کوششوں کے بعد ایک بعد سمجھ آئی کہ آج کل ہمارے غائبانہ دوست کے رویے میں کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے.بات کی مکمل سمجھ کے لئے ہمراہ فیصلہ ہوا کہ انہی سے ہی پوچھ لیا جائے.تو ہم اپنے اس دوست کے ہاں تشریف لے گئے جنہوں نے مجھ سے اتنی بڑی بات کی تھی جو میرے لئے کافی دنوں سے ہضم نہیں ہو رہا تھا.خیر ان سے بات کرنا ہی تھا تو دل پر ہاتھ رکھ کر ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا.ان کی باتوں میں درد شامل تھا تو ہنسی نہ رکی پر وہ بُرا نہیں مان رہا تھا بات ان کے زبان پر آ ہی گیا مجھ سے کہا کہ ہم کیوں صرف اپنے متعلق سوچتے رہتے ہے.ہمیں ان کی فکر کیوں نہیں ہوتی جس کا کوئی نہیں ہوتا ہے.کیوں ایک انسان اے سی والا کمرے اور دوسری طرف دوسرا انسان کھلے اسمان تلے سونے پر مجبور ہے کیوں غریب انسان روٹی کے لیے فکرمند اور امیر انسان آسائشات کے طلب گار ہے.غریب کے بچوں کے لئے دو نوالہ کا سوال امیروں کے کتے بھی رزق سے لبریز. کیا ہم انسان ہے .نہیں انسان تو ایسے نہیں ہوتے اس نے سر ہلاتے ہوئے زور زور سے رونا شروع کر دیا اور مجھ سے وہی بات دوہرانے لگا جس کی وجہ سے میں کافی دنوں ان سے ناراض رہا تھا آج مجھے ان کی بات مجھے شہد سے ذیادہ شرین لگ رہا تھا کیونکہ اس نے واقعی مجھے انسان بنایا تھا.سچ ہے ہماری سوچ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہیں جاتی ہے. ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتے.اگر ہم تھوڑی بھی اپنی دھیان معاشرے کے ان لوگوں پر مرکوز کریں تو یقیناّ ہمیں ہمارے معاشرے میں وہی لوگ نظر آئے گا جس کو ہماری ضرورت ہو جو میرے دوست کو نظر آگئے.لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے معاشرے میں بھی وہی کریکٹر ہو جو یہاں بیان میں آئے ہے .غریبی کی مختلف قسمیں ہوتی ہے جو معاشرے میں مختلف حلیے سے وجود رکھتے ہے ہمیں ان وجود کو سمجھنے کی ضرورت ہے ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ان کے احساسات و جذبات کو اپنے اندر سمو لینے کی ضرورت ہے پھر کہے تو بہتر ہے لو وہ وقت آگیا ہے کہ میں انسان بن گیا ہوں.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc