بدلتا گلگت بلتستان اور پاکستان ۔۔ تحریر :پروفیسر علی شفا ء

گلگت بلتستان ایک بار پھر نومبر کے مبارک ماہ میں ایک نئی سمت میں نکل پڑا ہے جو کہ حوصلہ افزا اور قابل رشک ہے 70 سالوں کے جمود کے بعد عوامی سطح پر ایک نیا سلسلہ شروع ہواہے جبکہ اس نئے سمت میں ایک بات قابل ستائش یہ ہے اس دفعہ لیڈ نگ رول پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھ میں جو نہ صرف کھلے عام عوام کی رہنمائی کر رہے بلکہ بڑھ چڑھ کر کردار بھی ادا کر رہیں ہیں عملاً ۔۔پاکستان اسٹبلیشمنٹ کی 70 سالہ بے رخی اور گلگت بلتستان میں موجود غیر مقامی انتظامیہ کا کردار بھی نوجوانوں کے کام کو آسان کر رہا ہے،، گزشتہ 70 سالوں میں گلگت بلتستان کے عوام نے اسٹبلشمنٹ کی جانب سے استعمال شدہ مختلف ٹکتیکس کو بہتر طور پر عوام کے سامنے رکھ ہے ۔کے ٹو اور دریائے سندھ ،سیاچن اور سلک روٹ پاکستان کا حصہ ہے لیکن بد قسمت عوام آج بھی شناخت کے بارے میں منتظر ہیں ایسے میں نااہل لوکل حکمرانوں کی ضرورت سے زیادہ شاہ کی وفاداریاں اور متضاد بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، جی بی کونسل جس میں غیر مقامی افراد کی تعداد زیادہ ہے اور لوکل کی تعداد کم اور کوئی حثیت بھی نہیں ۔جس کے ذریعہ گورنمنٹ آف پاکستان گلگت بلتستان کے عوام پر غیر قانونی ٹیکس مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اب عوام کی طرف سے بھر پور مطالبہ آیا ہے کی جی بی کونسل کو فلفور ختم کیا جائے ورنہ عوام چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔عوام نے وفاقی اور پاکستانی مزاہبی جماعتوں کی گلگت بلتستان میں سرگرمیوں پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا ۔عوام نے دھو ٹوک انداز میں واضع کیا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے جہاں پر کوئی ٹیکس لگانا اقوام متحدہ اور پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی حکم کے بھی خلاف ورزی ہے اس سلسلے میں حوالے کے طور پر گلگت بلتستان کے عوام میں سپریم کورٹ پاکستان کا عدالتی حکم نامہ بہت مقبول ہے اور بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ پاکستان کے حکم پر عمل در آمد ہونا چائیے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنی تاریخی فیصلہ28 اپریل1999ء میں صفحہ نمبر 42 پر حکم صادر کرتا ہے کہ “گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے ا نڈیا ، چین تبت ، روس کے درمیان ایک انتہائی حساس خطہ ہے ، یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت د ینی چائیے کیونکہ اس بات کی آئین پاکستان اجازت نہیں دیتی،اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں در اصل یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگراں رائے شماری ہونا ہے”۔
آگے یہ بھی حکم کرتا ہے کہ”ناردرن ایریاز ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ تھے ، حکومت پاکستان چھہ مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق،سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ، اس طرح کے اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف پر کوئی فرق نہیں پڑنا چائیے ” عالمی عدالت کا فیصلہ بھی بیان کئے دیتے ہیں تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو اس اہم نکتے کو سمجھنے میں مدد ملے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ و صوبہ بنانے کے بارے میں عالمی عدالت کیا کہتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 30 مارچ1951 ء میں پاکستان اور انڈیا نے اس بات کو قبول کرکے د ستخط کئے ہیں کہ “پاکستان اور انڈیا کی اسمبلیوں کو ریاست جموں و کشمیر کی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا”۔ قابل غور حقیقت یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر اور جموں و کشمیر کی اسمبلیوں کو بھی پاکستان یا انڈیا سے الحاق کا حق حاصل نہیں ہوگا اور اسی طرح گلگت بلتستان کی این سی پی (Non Constitutional Province) اسمبلی کو بھی کسی سے الحاق کا حق حاصل نہیں ہے۔یہ اسمبلی ایک لاکھ چوبیس ہزار قراردادیں پاس کرے جب تک مسئلہ کشمیر عالمی عدالت میں زیر التواء رہے گا پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی حصہ نہیں بنا سکتی ہے اسی طرح انڈیا،لداخ ، جموں ،اودھم پور اور کاتھواہ کو اپنا حصہ نہیں بناسکتی ہے۔ یاد رہے کہ ان خطوں کی عوام بھی مسئلہ کشمیرسے جان چھڑا کر انڈین یونین کا مستقل حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کیا گیا تو بھارت فوری طور پرلداخ ،جموں ،اودھم پور اور کاتھواہ کو انڈین یونین کا حصہ بنائے گی اس سے مسئلہ کشمیر خود بخود دم توڑ دے گی۔مسئلہ کشمیر کا زندہ رہنا ضروی ہے کیونکہ یہ شہ رگ ہے جبکہ گلگت بلتستان زیو ر(Jewel ) ہے اس لئے تو زیور 70 سالوں سے شہ رگ سے لٹکی ہوئی ہے۔مقررین پاکستان کے دفتر خارجہ اور حالیہ سینٹ کے چیئرمین کے بیان کو بھی عوامی تحریک کے مرکزی تقریب رونمائی کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ علاقہ جات کے تمام حقوق کے بھی ڈیمانڈ کر رہے ہیں جس میں 42 اشیاء پر سبسڈی اور انکے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہو نے چاہئے ۔اب پانچواں دورہ صوبے کا لارا اپنے الوداعی تحفہ اسٹیج پر ہے اکثریت اس بات کو جان چکے ہیں کہ پانچواں صوبے کا نعرہ ایک ڈھونگ ہے جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنے کے سواے کچھ نہیں، اور وہ تمام سیاسی و مذاہبی جماعتیں جنہوں نے عوام کے جزبات کے ساتھ صوبے کے نام پر کھلواڑ کیا اب انکی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں، جلسوں میں علماء کے کردار پر بھی سخت تنقید کیا جا رہا ہے کیونکہ علماء نے عوام کو منبر سے اصلی رہنمائی نہیں کی جسکی وجہ سے آج گلگت بلتستان میں ہر طرف مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں علماء کی موجودگی میں ایسا ماحول پیدا ہونا کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ گلگت بلتستان نے پاکستان کے لئے جانون کا نذرانہ پیش کیا آج گلگت بلتستان کی ہے گلی کوچوں میں شہدائے پاکستان کی قبریں ہیں اس سے زیادہ ہماری وابستگی کا اور کیا ثبوت چاہتے ہو، یہ سب کرنے کے باوجود بھی ہم پاکستانی نہیں جو لوگ الہدگی کی بات کرتے ہیں اور افواج پاکستان کے ساتھ مسلح جنگ کرتے ہیں وہ پاکستانی ہیں اور ہم پر شک کیا جاتا ہے جب بھی ہم اپنے حقوق کے لئے عوامی سطح پر کوشش کرتے ہیں ہم پر الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے بد قسمتی سے کچھ خاص مائینڈ سیٹ کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستان سے دور کیا جارہا ہے جس میں گلگت بلتستان میں تعنیات آفسر شاہی اور مقامی مفاد پرست عناصر جو ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں انکا کام عوام کی خدمت نہیں بلکہ آقاون کی خوشنودی کے سواء کچھ نہیں جس کی وجہ سے عوام میں مایوسانہ فکر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور لوگوں میں بے شمار قسم کے سوالات نے جنم لیا ۔اسوقت بھی موجودہ نون لیگ کی حکومت ریاست پاکستان کو ٹیکس ہڑ تال کے معاملے میں گمراہ کر رہا ہے جسکی بناء مکمل ہڑتال کے تیسرے روز بھی کسی قسم کے کوئی مزاکرات نہیں ہوے ۔بلکہ مسلم لیگ کے اطلاعاتی ٹیم کی طرف سے ہڑتال کی ناکامی کی خبریں اورمضامین چل رہے ہیں جس کا مقصد ریاستی اداروں کو گمراہ کرنے اور گلگت بلتستان کے عوام کے دل میں نفرت بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں ۔پاکستان کے ریاستی اداروں کو لارا مار گروپ کی جھوٹی گواہی سے ہٹ کر معاملے کو سنبھالنے میں کردار ادا کرنا چاہئے گلگت بلتستان کوئی بہاولپور یا راجن پور نہیں یہ ایک انتہا ئی اہمیت کا حامل حساس علاقہ ہے جس کی اہمیت اقوام عالم جانتے ہیں پھر نہ کہنا کہ حالات کا اندازہ نہیں تھا ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc