گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات اور عوامی مسائل ۔ تحریر: محمد حسن جمالی

کسی بھی ملک، خطہ اور شہر میں مقامی اخبارات بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں،یہ عوامی مسائل اور مشکلات کو ارباب اقتدار تک براہ راست پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، اخبار کے ذریعے لوگ دنیا کے حالات اور اپنے ملک کی تازہ صورتحال سے آگاہ ہوجاتے ہیں، ایک زمانہ تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام مقامی کوئی اخبار نہ ہونے کی وجہ سے پریشان رہتے تھے،کیونکہ وہ اپنے شہر اور علاقے کے مختلف مسائل اور مشکلات کو ایوان بالا کے کرسی نشینوں تک پہنچانے سے قاصر رہتے تھے،ملکی و عالمی خبروں اور حالات سے باخبر ہونے کے لئے‘‘اہل گلگت بلتستان’’ملکی اخبارات پر انحصار کرتے تھے، لیکن زمانے کی پیشرفت اور تبدیلی کے سبب گلگت بلتستان میں بھی آہستہ آہستہ مقامی اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا، یہاں تک کہ آج گلگت بلتستان کے لوگوں کو مقامی اخبارات نے مکمل طور پر ملکی اخبارات سے بے نیاز کردیا ہے۔
‘‘اہلیان گلگت وبلتستان’’اپنے مقامی اخبارات کو پورے شوق وذوق سے ملکی اخبارات پر ترجیح دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مقامی اخبارات’’گلگت بلتستان’’کے عوام کی توقع پر اتر رہے ہیں؟ کیا بادشمال، کے ٹو، بیدار،اور دوسرے اخبارات، گلگت بلتستان کے عوامی مسائل اور خطے کی مشکلات کو اجاگر کرکے انہیں حل کرنے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں؟ کیا گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات اپنے اصلی اہداف ومقاصد کو پورا کررہے ہیں؟ جواب منفی ہے، یعنی گلگت بلتستان میں جس طرح دوسرے شعبہائے زندگی سیاست سے متاثر ہوچکے ہیں، شعبہ صحافت بھی سیاست کے دلدل میں پھنس چکا ہے، بلکہ اگر یوں لکھا جائے تو بے جا اور مبالغہ نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان میں جو شعبہ سب سے ذیادہ سیاست سے متاثر ہوا ہے وہ صحافت اور میڈیا کا شعبہ ہے، یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے بہت سارے مطالب کا شمالی علاقہ جات سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اور مقامی خبروں میں بھی صداقت کم اور سیاسی رنگ گہرا دکھائی دیتا ہے۔گلگت بلتستان کے اخبارات کے مالکان بڑے افتخار سے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم صحافت کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کی اچھی طرح خدمت کرنے میں کوشاں ہیں، ہم نے صحافت کے ذریعے گلگت بلتستان کے غیور عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا ہے وغیرہ، مگر یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ گلگت بلتستان کے صحافتی میدان میں فعالیت کرنے والے, اہل سیاست کی مرضی کے مطابق اپنے ہنر کا مظاہرہ کررہے ہیں،ان کے لئے گلگت بلتستان کے عوامی مسائل کو منظر عام پر لانے سے کہیں ذیادہ صاحبان اقتدار کو خوش رکھنا اہم بنا ہوا ہے، بدون تردید اخبارات کے مالکان کو اپنی کارکردگی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، انہیں اس نکتے پر خوب توجہ کرنا ضروری ہے کہ صحافتی میدان’قوم اور علاقے کی ترقی اور پیشرفت میں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اخبارات کے’’مالکان’’ذرا احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اپنے علاقے اور مقامی عوام کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں۔ گلگت بلتستان کے اخبارات کے مالکان کی خدمت میں دست بستہ یہ عرض کروں گا کہ کوئی بھی اخبار یونہی چند خبریں اس میں شائع کرنے سے مشہور نہیں ہوتا ہے, بلکہ اخبار کی مقبولیت اور شہرت اپنے خاص معیار سے جڑی ہوئی ہے, اب وہ معیار کیا ہے؟ کسی بھی اخبار میں خبروں سے ذیادہ جو چیز اہم ہوتی ہے وہ اداریہ اور کالمز ہیں، اس لئے کہ خبروں کی مدت بہت محدود ہوتی ہے، خبر کی حیثیت اور اہمیت 24گھنٹے تک ہی ہوتی ہے اس کے بعد خبر کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے، جب کہ اداریہ اور کالموں میں ایڈوٹیریل انچارج اور کالم نگار مختلف عوامی مسائل اور مشکلات پر تجزیہ وتحلیل کرتے ہیں، وہ کوشیش کرتے ہیں کہ علاقے اور خطے کے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈال کر حکمران کو ان مسائل کی جانب متوجہ کرائیں اور عوام کو بھی اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کرکے بیدار رکھیں،ظاہر سی بات ہے کہ گلگت بلتستان کے عوامی مسائل پر مقامی قلمکاروں سے بہتر کوئی نہیں لکھ سکتا، لیکن گلگت بلتستان کے اخبارات کے مالکان نے اس حقیقت سے ابھی تک تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کررہے ہیں،وہ اپنے مقامی قلم کاروں کو یکسر طور پر نظر انداز کرتے ہوئے بے تحاشہ رقم خرچ کرکے غیر مقامی قلمکاروں سے اپنے اخبارات کے لئے آرٹیکلز لکھواتے ہیں,ظاہر ہے وہ کتنے مشہور ہی کیوں نہ ہوں گلگت بلتستان کے حالات اور مسائل کی معلومات سے تہی ہونے کی وجہ سے وہ گلگت بلتستان کے مسائل پر نہیں لکھ سکتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان کے کسی سیاسی مسئلے پر لکھتے ہیں اور اخبارات کے مالکان خوشی خوشی ان کی تحریر کو اپنے اخبارات میں شائع کرکے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اخبارات راتوں رات شہرت کی آسمان پر جاپہنچیں گی, ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ اس خام خیالی میں گرفتار ہوکر گلگت بلتستان کے اخبارات کے مالکان اپنے اخبار میں غیر مقامی کالم نگاروں کے کالمز شائع کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں مگر انہیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ یہ ان کی سخت بھول ہے ۔ مشہور غیر مقامی قلم کاروں کی تحریریں اخبار میں شائع کرنے سے اخبار مشہور نہیں ہوتا ہے بلکہ خطے اور علاقے کے مسائل اجاگر کرکے ہی اخبار کی جانب گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں کو جلب کرسکتے ہیں، جس کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ اخباروں کے’’مالکان’’غیر مقامی قلمکاروں کے بجائے خود گلگت بلتستان کے باصلاحیت کالم نگاروں کو ترجیح دیں 150 گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پڑھے لکھے باصلاحیت افراد موجود ہیں، درجنوں تعلیم یافتہ اسکالرز موجود ہیں جو ملکی سطح پر کالمز لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے ساتھ تعاون اور حوصلہ افزائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صلاحیت کو سامنے نہیں لاتے ہیں، گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ دار افراد صحافتی نظام کو معیاری بنائیں اور گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات میں اپنے قلمکاروں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے پر اخباروں کے مالکان’’کو پابند کریں تاکہ گلگت بلتستان کے عوامی مسائل اچھی طرح حکمرانوں کے سامنے نمایاں ہوسکیں در نتیجہ عوام کے مسائل حل کرنے میں وہ ممد ومعاون ثابت ہوجائیں ۔
(نوٹ)
تحریر نیوز کے مسؤلین لائق داد وتحسین ہیں کہ جنہوں نے گلگت بلتستان کے قلمکاروں کے لیے تحریر نیوز کی شکل میں ایک آزاد پلیٹ فارم بناکر گلگت بلتستان کے مسائل اور مشکلات کو منظر عام پر لانے میں انتہائی اخلاص سے زحمت اور محنت کررہے ہیں ۔اللہ تعالی ان کی توفیقات خیر میں مزید اضافہ کرے (آمین)

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc