گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ۔حقوق دو ٹیکس لو۔

محترم قارئین ذیادہ تمہید نہیں باندھوں گا بلکہ یہی کہوں گا کہ ٹیکس دنیا کے مہذب معاشروں میں نظا م چلانے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔ لیکن عجیب صورت حال ہے اس وقت پاکستان میں نون لیگ جو پچھلے 35سالوں سے ملک پر حکمرانی کر رہا ہے اور اُنہوں نے ملک کیلئے کیا خدمات سرانجام دیئے پانامہ کیس اور نواز شریف کی نااہلی تک کے سفر میں پاکستان کے عوام نے دیکھ لیا اور ابھی مزید پنڈورا بکس نے کھلنا ہے اور ملک میں حکمرانی کے نام پر لوٹ مار کرکے مملکت پاکستان کو غریب اور پاکستانی کی آنے والی نسلوں کو کشکول تھمانے والوں کا کڑا احتساب ہونا ہے۔ لیکن ایک ایسا خطہ جس کے حوالے سے وفاق پاکستان کا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اقرار کرچُکے ہیں کہ یہ خطہ آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں اس خطے کو یہاں کے عوام کی مسلسل مطالبات کے باوجود پاکستان کے آئینی دائرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مسلہ کشمیر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں جسکا بہانہ بنا کرحکمران پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ ہوگا جہاں شامل ہونے کیلئے لوگ دعائیں مانگتے ہیں احتجاج کرتے ہیں مقامی قانون ساز اسمبلی میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی بار متفقہ قراداد پاس کرچُکے ہیں کہ جناب ہمیں قومی شناخت چاہئے ہمیں بھی مکمل طور پر پاکستانی ہونا ہے لیکن مسترد ہوئے وجہ وہی آپکا علاقہ مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ ہے لہذا ایسا کیا تو مسلہ کشمیر پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ یعنی ہماری تمام تر وفادریاں اپنی جگہ لیکن گلگت بلتستان کے عوام نے آج تک اس مسلے کی قانونی پہلو کو جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آیا گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کیلئے دستور پاکستان اور بین الاقوامی قوانین میں کس حد ممکنات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ایک طرف مملکت پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں دوسری طرف پریشان بھی کرتے ہیں کیونکہ قانون کے مطابق جب ایک بات طے ہوجاتی ہے تو اس پر بار باراصرار کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ معاملات بننے کے بجائے بگڑ بھی سکتا ہے۔لہذا یہ بات تو اب روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا ہے کہ گلگت بلتستان صوبہ کشمیر کاز کی وجہ سے پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے لہذا گلگت بلتستان کے عوام کو اب یہ بات سمجھ میں  آجانا چاہئے اور الحاق کیا تھا جیسے نعرے کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں لہذا اُسے ترک کردینا چاہئے کیونکہ مملکت پاکستان اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بین الاقوامی طور پر وطن عزیز کی مجبوریوں کو سمجھیں اور ایسے مطالبات سے گریز کریں جس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہو۔ دوسری طرف وفاق میں بیٹھے حکمرانوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہوجانا چاہئے کہ ایک ایسا خطہ کو پچھلے سترسالوں سے تمام قسم کے بنیادی حقوق سے محروم ہیں شرح روزگار نہ ہونے کے برابر ہے، سرکاری محکموں میں نوکریوں کا حصول مقامی حکومتوں کی کرپشن اور اقرباء پروری کی وجہ سے عام آدمی کیلئے ایک خواب سے کم نہیں، نجی سطح پر مواقع موجود نہیں،قدرتی وسائل سے مالامال اس خطے کے وسائل تو بہت ذیادہ ہیں لیکن بروئے کار لانے کیلئے قیادت کا فقدان ہے،شرح تعلیم بہتر ہے لیکن شرح صحت سے لیکر شرح آمدنی زیرو ہے، جس کی بنیادی وجہ اس خطے کا متنازعہ ہونا ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے جب متنازعہ حیثیت کی وجہ سے حقوق نہیں دے سکتے تو یہاں ٹیکس نافذ کرنے کیلئے کس قانون کا سہارا لیا جارہا ہے کیا جس قانون کے تحت گلگت بلتستا ن میں تمام قسم کے ٹیکسز نافذ کررہے ہیں اُسی قانون میں اس خطے کی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے کوئی شق موجود نہیں؟ بلکل ہونگے لیکن عمل درآمد شرط ہے۔ گلگت بلتستان کے وسائل کی بندربانٹ کیلئے قانون لاگو ہوسکتا ہے تو متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق دینے کیلئے قانو ن کا حرکت میں نہ آنے کی وجہ کیا ہے؟ گلگت بلتستان کے عوام سمجھنے سے قاصر ہے۔ لیکن یہاں کے عوام کی مجبوری یہ ہے کہ مقامی طرزی حکومت نے اس قسم کی باتیں کرنے اور سوالات اُٹھانے والوں کو دیوار سے لگانے کی قسم کھائی ہوئی ہے یہ قسم بھی کس قانون کے تحت کسی نے آج تک سوال نہیں کیا کیونکہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا گلگت بلتستان کی خوبصورتی پر تو بڑا فخر کرتے ہیں کے ٹو، ننگا پربت ،سیاچن،شندھور،دیوسائی،سست،خنجراب کی باتیں تو بہت کرتے ہیں بلکہ فخر پاکستان کا لقب بھی دیتے ہیں لیکن اسی میڈیا نے آج تک حکمرانوں سے یہ سوال نہیں کیا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقو ق کیوں نہیں دیا جارہا؟،یہاں کے عوام آج اکسویں صدی میں بھی انٹرنیٹ جیسے بنیادی ضروریات سے محروم کیوں ہیں؟۔ افسوس اس بات پر بھی ہے کہ پاکستان میں سول سوسائٹی چوہے کی موت پر بھی احتجاج کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان میں حقوق مانگنے کی جرم میں چالیس سال قید کی سزا پانے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں جن افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا ہے اُنکا بھی کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ مقامی سطح پر جن افراد کے پاس طرزی عہدے ہیں وہ لوگ ایک طرح سے سیاسی نابالغ ہیں تو دوسری طرف اُن کے اختیارات میں صرف مراعات کا مطالبہ ہے اور وہ اسی پر خوش ہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ جو کرنا ہے کرلو لیکن ہمیں حکومت کرنے دو۔ گزشتہ ہفتے کی بات ہے جب سردار عتیق نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا تو دوسرے دن گلگت بلتستان مسخرہ ترین ڈپٹی اسپیکر بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سٹیٹ سبجیکٹ ہم نے خود ختم کرایا ہے لہذا کشمیریوں کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کو اپنے اختیارات کا علم نہیں ہے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں ہمیں ہماری اوقات سے ذیادہ پزیرائی مل رہا ہے اس پر ہم خوش ہیں ورنہ یہ معاملہ اُس وقت حل ہوگا جب مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں یہاں رائے شماری ہوگی اُس وقت تک گلگت بلتستان کی حیثیت ایسا ہی ہے جیسے آذاد کشمیر،جموں کشمیر اور لداخ۔ اس وقت گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سب سے پیچیدہ مسلہ کشمیر ایشو اور انقلاب گلگت کو سمجھنا ہے جس کیلئے ہمارے عوام بشمول کچھ مذہبی مولوی بلکل ہی تیار نہیں بلکہ وہ عہدوں کے عوض نعرے لگاتے ہیں جس میں سابق تحریک جعفریہ اور موجودہ اسلامی تحریک  سر فہرست ہے جن کے پاس گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی قانونی اور آئینی نظریہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ اُنہیں گلگت بلتستان میں باری اکثریت کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملنے کے باوجود پانچویں صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے۔ لیکن آج بھی مسلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کے قوانین کو سمجھنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ ٹیکس کے حوالے سے بات کر آگے بڑھائیں تو یہ بات سمجھنے سے ہمارے عوام بلکل قاصر ہے کہ جس قانون میں ہمیں اپنے خیالات شامل کرنے کی اجازت نہیں اُس قانون کے مطابق گلگت بلتستان میں سیلز ٹیکس،انکم ٹیکس،ودہولڈنگ ٹیکسس کس طرح نفاذ کیا؟ لمحہ فکریہ ہے ۔ لیکن اس قسم کے معاملات پر بات کرنا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے اور وہ تیارنہیں بلکہ وزیراعلیٰ صاحب ٹیکس کے معاملے میں بات کرنے کودیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف قرار دے چُکے ہیں کسی کا خیال ہے کہ ٹیکس ہر حال میں دینا پڑے کا مگر کس قانون کے تحت کوئی جواب نہیں، اب تو حکومتی مراعات یافتہ لوگوں نے ٹیکس کے خلاف جاری شٹرڈاون پہہ جام ہڑتال کو بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش قرار دینا شروع کیا ہے اور کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش میں لگے ہیں کہ اس قسم کے تمام ٹیکسز کیونکہ سابق حکومت کے کارنامے ہیں لہذا ہم نے اس معاملے میں کچھ نہیں کرنا ہے۔ ایک عجیب منطق ہے سابق حکومت نے کرپشن کیا وہ موجودہ حکومت بھی کررہا ہے سابق دور میں نوکریاں پیسوں کے عوض بکتے رہے آج مسلک اور علاقائت کی بنیاد پر تقسیم ہورہا ہے، سابق حکومت میں گندم اسمگلنگ کا چرجہ تھا آج ٹمبر مافیا فعال ہے،ایک غلط کام اگر سابق حکومت نے کیا تو کیا موجودہ حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ عوامی کی نمائندگی کریں اور متنازعہ حیثیت کے مطابق وفاق سے بات کریں ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن کسی نے توجہ دلانے کی کوشش بھی کی تو وہ سازشی عناصر سی پیک مخالف قوتوں کیلئے مواقع فراہم کرنے والے وغیر وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ عوامی حقوق سے سی پیک کا کیا تعلق؟ کیا قومی اسمبلی اور سنیٹ میں پاکستان کے چاروں صوبے حقوق کی حصول کیلئے دست گرییاں نہیں ہوتے؟ لیکن افسوس کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ متنازعہ خطے پر حقوق کے بغیر غیرقانونی ٹیکس نفاذ کرکے نون لیگ کی حکومت دراصل گلگت بلتستان کے عوام کو اُکسانا چاہتے ہیں تاکہ سی پیک مخالف قوتوں کو گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت پر بولنے کا موقع ملے لہذا چیف آف آرمی سٹاف کو اس معاملے میں چھان بین کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ کونسی وقت ہے جو سیاست کے نام پر منتازعہ گلگت بلتستان کے عوام کو کبھی کسی مسلے پر تو بھی کسی مسلے پر سڑکوں پر نکلنے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے لہذا ایک ہی حل متنازعہ حیثیت کی بنیادپر حقو ق دینا ہے مگر یہاں تو اُلٹی گنگا بہتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق کیلئے پچھلے تین دنوں سے شٹرڈاون کئے بیٹھے ہیں لیکن الیکٹرانک میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہے آخر کیا وجہ ہے ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی نون لیگ کی حکومت کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں جنہیں گلگت بلتستان کی حساسیت اور یہاں پر بڑھکنے والے شعلوں کا احساس نہیں ورنہ اس ایشو کو اُٹھاتے۔ مگر افسوس الیکٹرانک میڈیا نے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو تنہا چھوڑ دیا ۔ اب ہمارے پاس ایک آخری اُمید آرمی کا ہے جو ہر بُرے وقت میں گلگت بلتستان کے عوام کا ساتھ دیتے ہیں اُن سے گزارش کروں گا کہ خدارا گلگت بلتستان کو مقامی مراعات یافتہ طبقے سے بچائیں اُن عزائم میں جندال نظر آتا ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکس کے نام پر اُکسانا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام ٹیکس کے مخالف نہیں بلکہ اُن عزائم کے خلاف ہے جو اس وقت گلگت بلتستان میں پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان کو وہ حقوق دیئے جائیں جس سے سی پیک محفوظ ہو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر منفی اثرانداز نہ ہو اور کشمیر کاز کو کوئی نقصان نہ پونچے وہ ہے گلگت بلتستان میں بھی مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے آذاد کشمیر طرز پر بااختیار آئینی ڈھانچے کی تشکیل دیں اس سے فیڈیشن مضبوط ہوگا اور پاکستان دشمن عناصر کے عزام کو بھی شکست ہوگی۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc