ایکشن کمیٹی اور حکومتی ایکشن تحریر : تنویرعباس

لگتا میں عوامی ایکشن کمیٹی ایک بار پھر حرکت میں آئی ہے. حرکت میں آتے ہی گلگت بلتستان ایک بار پھر نا منظور نا منظور کے نعروں سے گونج اٹھا اس دفعہ عوامی ایکشن کمیٹی جس کو تمام اپوزیشن پارٹیز اور عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے” No Taxation without representation” کے نعرے کے ساتھ سڑکوں پر ہے. اس کا مطالبہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کی کوئی آئینی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا گلگت بلتستان میں نافذ تمام ٹیکسز کو واپس لیے جائیں. یہ بات واضح رہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے انکم ٹیکس, ودہولڈنگ اور دیگر لوکل ٹیکسز صوبے میں نافز کر رکھے ہیں۔ہڑتال کے سلسلے میں گلگت بلتستان بھر میں کرفیو کا سا سما ہے تمام مارکیٹس, بینک اور تجارتی مراکز بند ہیں. جگہ جگہ بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت خلاف نعرے درج ہیں۔ یہ گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کا واحد احتجاج ہے جس میں تمام بینکوں نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی حکومت ہڑتال ناکام بنانے کے لیے روایتی اوچھے ہتکنڑوں پے اتر آئی ہے. تمام مقامی اخبارات کو تنبہ کی گئی ہے کہ اگر انہوں نے ہڑتال کو کوریج دی تو ان کو اشتہار بند کیے جائنگے. ذرائع کے مطابق حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کے مقدمات درج کرنے کی بھی تیاری کر لی ہے. سوشل میڈیا پر حکومتی حلقے احتجاج کرنے والوں کو غدار اور بھارت کے ایجنٹ قرار دینے میں مصروف ہیں۔تاہم عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کے ان اقدامات سے کسی صورت مرعوب نہیں. انہوں نے بینک کے ٹرانزیکشن پر سے ٹیکس ہٹانے کے. حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوۓ تمام مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے بھی حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں مولانا سلطان رئیس, فدا حسین اور دیگر کو گندم سبسڈی کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے کے پاداش میں گرفتار کر چکی ہے. حکومت ایک با پھر اپنے غیر سنجیدہ اقدامات سے عوام میں پائی جانے والی مایوسی کو ہوا دے رہی ہے۔ متنازعہ غداری اور دہشتگردی ایکٹ صوبائی حکومت کے لیے اپنے مخالفین اور عوامی حقوق کی بات کرنے والوں کی آواز کو دبانے کا ایک ٹول بن چکا ہے۔جس کی واضح مثال حسنین رمل کی ہے جو سوشل میڈیا پر عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے پاداش میں گرفتار ہے. جس پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ وہ عوامی حقوق کی بات کرنے سے باز آئے تو اسے رہا کیا جائے گا۔حکومت کو چاہیےکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رہے. اور متنازعہ غداری اور دہشتگردی ایکٹ پر ازسرےنو غور کرے اور اس کے لاگو ہونے اور نہ ہونے کو واضح کررے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc