,گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کیخلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جی بی ایکشن کمیٹی اور وکلاء کی مشترکہ پریس کانفرنس, گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہونے کے باوجود غیر قانونی ٹیکسز کے نفاذ کرکے حکومت عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے ہم پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا چاہتے ہیں تو وفاق سے کہا جاتا ہے متنازعہ خطہ ہے،اگر ہم متنازعہ خطے کے باسی ہے تو ہماری متنازعہ حثیت واضح کیا جائے, چئیرمین ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان مولانا سلطان رئیس

اسلام آباد (زاہد حلیم ) گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ کیخلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جی بی ایکشن کمیٹی اور وکلاء کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں چئیرمین ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان مولانا سلطان رئیس الحسینی نے کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی  اور اقتصادی  لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔گلگت بلتستان کے لوگوں نے اپنی مدد آپ آزادی حاصل کرکے غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیے۔ستر سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی یہاں کے باسیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے،سپریم کورٹ سے ہم اپیل کرتے کہ اقوام متحدہ کے قراردادتوں کو مدنظر رکھتے گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ 2009 صدرتی ایکٹ کو ختم کرکے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی سیٹ اپ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہونے کے باوجود غیر قانونی ٹیکسز کے نفاذ کرکے حکومت عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے،گلگت بلتستان کی صوبائی کابینہ مکمل صوبائی سیٹ اپ نہیں بلکہ وفاق کا ایک بنچ ہے،ہم پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا چاہتے ہیں تو وفاق سے کہا جاتا ہے متنازعہ خطہ ہے،اگر ہم متنازعہ خطے کے باسی ہے تو ہماری متنازعہ حثیت واضح کیا جائے،غیر قانونی ٹیکسز کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھیں گے،اس وقت پورے گلگت بلتستان میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہے صوبائی حکومت کے اہلکار زبردستی لوگوں سے دکانیں کھولوا رہے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ جی بی آرڈیننس 2009 کی کوئی اوقات نہیں وفاق کسی بھی وقت ختم کر سکتا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اسداللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم  گلگت بلتستان میں لاگو غیر قانونی تمام ٹیکسز کو یکسر مسترد کرتے ہیں،

جب تک ہمیں نمائندگی نہیں ملتی کوئی ٹیکس نہیں دیا جائے گا، پاکستان میں بہت سے علاقے  ایسے ہیں جن کی نمائندگی ہونے کے باوجود بھی ٹیکسز سے مبرا ہے،اس وقت صوبائی حکومت نے انجمن تاجران کے نو سے زیادہ بندوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن ایڈووکیٹ صدر سپریم ایپلٹ کورٹ گلگت بلتستان نے کہا کہ کارگل لداخ روڑ کو بند رکھنا انٹرنیشنل قوانین کے منافی ہے،گلگت بلتستان سپریم ایپلٹ کورٹ میں اس وقت صرف ایک جج اپنے فرائض انجام دے رہا ہے یہ غیر قانونی غیر آئینی ہے،غیر قانونی ججز کی تعیناتی کے خلاف گلگت بلتستان کے وکلاء کا ایپلٹ کورٹ سے کافی عرصے سے بائیکاٹ ہے،

ستر سال کے عمر رسیدہ ججز کو گلگت بلتستان بھیجا جاتا ہے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہے، جبکہ جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مولانا سمیع الحق غیر مقامی ججز کا گلگت میں بھیجا جانا بلکل قبول نہیں کرینگے،گلگت بلتستان میں ظالمانہ ٹیکس کا نفاذ ظلم کےمترادف ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc