13 نومبر 2017ء۔۔۔ ایک تاریخ ساز دن۔ شریف ولی کھرمنگی۔

آج کے دن کو دو اہم حوالوں سے یاد رکھا جائیگا۔ سب سے بڑی اور اہم بات کئی سال بعد گلگت بلتستان بھر کے عوام کا آئینی حقوق سے محروم علاقے پر مقامی بلا مینڈیٹ افراد کی ایماء پر حکومت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی رولز کے خلاف زبردستی ٹیکسز کے نفاذ کی مخالفت میں عوام کا بھرپور شٹر ڈاؤن ہڑتال، احتجاجی مظاہرے ، پریس کانفرنس اور ریلیوں کا نکلنا ہے۔ یہ نہایت اہم سنگ میل ہے کہ ایک بارپھر تمام تر سیاسی و علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر علاقے کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے حق کیلئے اٹھ جانے کا فیصلہ کیا اور حکومتی نمائندوں کی بوکھلاہٹ سے واضح ہوا کہ اتحاد میں کتنی طاقت ہے اور اس اتحاد سے کیا کچھ نہیں لیا جاسکتا۔ اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دینے میں بہت سارے علاقائی درد رکھنےوالوں کا حصہ شامل ہیں جن میں سے نقطہ اتحاد و اتفاق اور مرکزی رہنما مولانا حافظ سلطان رئیس الحسینی صاحب ہیں ، جنہوں نے حکومت کی طرفسے استعمال کی جانیوالی علاقائی و مسلکی کارڈز کو رد کرتے ہوئے ان کے تمام حربوں کو ناکام کردیا اور واضح کیا کہ اب عوامی معاملات میں مزید سودے بازی نہیں کیا جاسکتا۔ جس پرتمام سیاسی ومذہبی تنظیموں سمیت تاجر و وکلاء برادری اور تنظیموں نے بھی ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی مشاورت سے مکمل آئینی حقوق کے حصول تک عوام کی طاقت اور خدائی مدد سے ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کا عزم کرکے ایک مدبر اور بے باک رہنما ہونے کا واضح ثبوت دیا، جو کہ یقینا عوام کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ گزشتہ ستر سالوں میں ہم ایسے راہنماء کا صرف خواب دیکھتے رہے جو پورے گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرتے ہوئے لیڈ کرے، اور بے باکی و جرات کیساتھ ملکی و بین الاقوامی طور پر اس خطہ بے آئین کی محرومیوں اور اصل حیثیت کو واضح کریں۔
دوسرا بڑا اہم معاملہ اپوزیشن لیڈر کی سیٹ کیلئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرفسے اپنے انتخاب سے اب تک سب سے فعال ترین رہنے والے بے باک سیاست دان کیپٹن شفیع خان کا انتخاب ہے۔ جس کو بلا شبہ ایک اہم سنگ میل اسلئے قراردیا جاسکتا ہے کیونکہ اس بار پہلی بار کسی بھی مذہبی و سیاسی تفریق کی بجائے حکومتی اکثریت کے سامنے بے باکی اور لگی لپٹی رکھے بغیر ڈٹ جانے والے بندے کو اس اہم سیٹ پر پہنچایا گیا جو کہ خود بظاہر الیکشن جیتنے کی بجائے ٹیکنو کریٹ سیٹ پر اسمبلی کا رکن بنے اور تعلق بھی ایک مذہبی سیاسی جماعت سے ہیں، جس جماعت کا دوسرا رکن خود حکومتی ٹیم کا بے قاعدہ رکن سمجھا جاتا ہے اور اس وقت حکومتی جماعت ہی کی ایماء پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ پر فائز ہیں، جوکہ صوبائی وزیر کےعہدے کے برابر مراعات رکھتے ہیں۔ اس ایشو پر نسبتا نومولود مگر مثالی طور پر اصولی اور علاقائی ایشوز پر ہر اول دستہ بن کر ہمیشہ متحرک رہنے والی مذہبی سیاسی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے نمائندوں اور رہنماؤں کو کریڈٹ نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ کیونکہ اب تک ان کو بعض نے مذہبی لیبل کے تحت اور بعض نے ہم مسلک ہوتے ہوئے اپنے زیر نگیں نہ چلنے کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنائے رکھا۔ مجلس وحدت مسلمین نے ابتداء سے ہی مک مکاؤ، پالیسیوں پر سمجھوتہ اورزیادہ سیٹیں لینے کیلئے ہر آپشن کو اپنانے کی دوسری تنظیموں کی روش کو اپنانے کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر مثالی سیاست کرنے کا نہ صرف تہییہ کرلیا تھا بلکہ اسمبلی میں ضمیر فروشی کرنے پر بھاری اکثریت سے جتوائے ہوئے اپنے ہی نمائندے کو تنظیم سے نکال کر پوری دنیا کیلئے ایک مثال بھی قائم کر رکھی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ علاقائی سیاسی حلقوں نے اپوزیشن لیڈر کے چناؤ سے پہلے پیش گوئیاں کر رکھی تھیں کہ اس بار بھی مجلس کے نمائندے تنظیمی فیصلے پر نہیں چلنے والے اور وہ اپنے اپنے مفادات اور وابستگیوں کے تحت کسی اور کو اپوزیشن لیڈر کیلئے ووٹ دیدیں گے۔ لیکن آج کے دن سب پر واضح ہوگیا کہ مجلس وحدت کے نمائندے بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اپنی تنظیمی پالیسیوں سےمخلص ہیں اور اپنے رہنماؤں کی قیادت پر اعتماد کرنے والے اور انکو ہر میدان میں سرفروش کرنے والے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے نمائندوں اور مجلس سے برطرف رکن اسمبلی کاچو امتیاز کے ساتھ قوم پرست جماعت کے رکن نواز خان ناجی نے بھی پہلی مرتبہ کیپٹن شفیع کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہوئے ان کو ووٹ دیا۔
میں بحیثیت ایک ادنیٰ طالبعلم ان دو معاملات کو علاقے کی روشن مستقبل کی طرف ایک بہت ہی تابناک ابتدا سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میرے حساب سے یہ دو اہم امور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقے کی عوام نے اب ستر سال سے حل طلب گھمبیر مسائل کو سمجھنے کیساتھ ساتھ ان کے حل کیلئے اتحاد و اتفاق اور کارکردگی کی بنیاد پر اہل اور بے باک افراد کو لیڈنگ رول سونپنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ اب ہم امید کرسکتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب وفاقی حکومتوں سے مراعات اور عہدے کیلئے عوام کو سبز باغ دکھانے والوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ لوگ انکے وعدے وعید سے تنگ آچکے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ اتحاد و اتفاق دائمی ثابت ہو اور اس شعور و بصیرت کودن دوگنی رات چوگنی ترقی ملے تاکہ ہم بھی اقوام عالم سے مقابلے کے مرحلے کا بھی سوچ سکیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc