منزل کے راہی بنے!! تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

محترم قارئین نہ میں بہت بڑا کالم نگار ہوں نہ میں بنے کی کوشش کر رہا ہوں بس میرے خیال کے مطابق ایک ذمہ داری ہم تمام انسانوں پر فرض ہوتی ہے میں وہی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ان کوششوں کے نتیجے میں اہل زبان اور کالم نگاروں سے معزرت بس صرف تسکین ضمیر کی خاطر لکھنے پر مجبور ہوں محترم قارئین سے بھی چھوٹی سی گزارش ہے کہ میری الفاظ پر مت جائے گا چونکہ میرے الفاظ میں یقیناً وہ تاثیر نہیں ہوتی جو پروفیشنل کالم نگار کے ہوتے ہے بلکہ ان میں صرف مقصد کو مدنظر رکھ لی جے گا.میں کس موڑ پر جا رہا ہوں اپنی دفاع کے ناکام کوشش کے لئے.اچھا جلدی ٹاپک کی طرف آتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کالم بور محسوس ہونے لگے.خدا ونداتعالی بڑا رحمان اور رحیم یے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ڈال دیتی ہے کوئی شعر گوئی میں ماہر تو کوئی فن خطابات میں ماہر کوئی انسان ذہنی طور پر قابل اور مضبوط تو کوئی ٹیکنکل طور پر مضبوط یعنی ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت و جوہر کے موتی بھری ہوئی ہے.اب ہم انسان پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اپنے صلاحیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے .اور کس طرح اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں .سماجی بہبود کے ادنی سا طالب علم ہونے کے ناطے بندہ ناچیز کا تعلق سماج کے ان لوگوں سے ہوتا ہے جو معاشرے کے سامنے معذور ہے لیکن میں نے اکثر ان کو سونے و چاندی بلکہ یوں کہے تو بےجا نہ ہو گا ہیرے سے بھی قیمتی لوگ دیکھے ہے بات ان کی قابلیت کی نہیں کر رہا ہوں بلکہ پہچان کی کر ہوں ان کو جب احساس ہوا کہ میرے فلاں جگہہ کمزوری ہے تو وہ متبادل کی تلاش میں رہا.یقین کر لے ان میں سے اکثر کے ہاتھ نہیں تھے لیکن وہ پاوں سے ایسی اشیا بنا رہے تھے جو صیح سالم ہاتھ رکھنےوالے نہیں بنا سکتے.یہ ہوتی ہے اپنے خوبی کی پہچان کرنے والا انسان.میں نے اکثر دیکھا ہے کہ انسان کسی بھی ناکامی کے بات کامیابی کی منزل کی تلاش نہیں کرتے کیونکہ ان کو اپنے خوبی کے متعلق آگاہی نہیں ہوتی اس لیئے میں نے بڑے سے بڑے اور قابل و ذہین انسانوں کو ناکام ہوتے دیکھا ہے .اس کی وجہ خوبی کی پہچان اور کام چوری ہے.ورنہ اللہ رب العزت جس نے ہم سب کو تخلیق کیا ہے وہی پالنے والا اور ہماری رزق کا ذمہ لیا ہوا ہے.
کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
منزل کی جستجومیں کیوں پھر رہے ہو انسان
اتنا عظیم بن جاوّ منزل تجھے پکاریں
منزل اسے ملیے گا جو اپنے خوبی کو جان لے گا اور اسی خوبی کو لئیے منزل و مقصد حیات کی کامیابی کے لیئے جدوجہد کریں گا.جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا جس نے خدا کو پہچان لیا اس نے کیا کھویا.یقیناّ جس نے اپنی خوبی پہچان لی اور اسی کے تحت جدوجہد کی وہ کامیاب و کامران ہوا.تو کیوں نہ آج سے ہم عہد کریں کہ ہم منزل کی پہچان کے لیئے سب سے پہلے اپنی پہچان کرینگے.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc